بیجنگ :حالیہ دنوں ، یوننان کے پریفیکچر شی شوانگبانا میں دائی قومیت کےواٹر فیسٹیول کی ویڈیوز نے پورے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی ہے۔ خوشیوں سے بھرپور پانی کے چھینٹے سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک صارفین کو اس پرجوش تہوار میں محو کر رہے ہیں۔ یہ بے ساختہ مسرت سے بھرے مناظر، خصوصاً فوجی اہلکاروں اور پولیس کا عوام کے ساتھ مل کر خوشیاں منانے کا انداز، دیکھنے والوں کو بے اختیار ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے، اور ساتھ ہی چین کے معاشرے میں موجود قابلِ رشک استحکام و ہم آہنگی کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔واٹر فیسٹیول کی خوشی، موقع پر موجود صارفین کی اپ لوڈ کردہ ویڈیوز سے بھرپور انداز میں جھلک رہی ہے ، جسے دیکھ کر بہت سے لوگ پکار اٹھے کہ: "ہم بھی وہاں جانا چاہتے ہیں! "۔ روزمرہ میں سڑکوں پر خاموش رہنے والا پالتو کتا جب پانی کے چھینٹوں سے بھیگ کر حیران و پریشان ہو جاتا ہے، تو اُس کے چہرے پر "زندگی سے بے زاری” کے تاثرات دیکھ کر صارفین اپنی ہنسی نہیں روک پاتے ہیں۔ دوسری جانب ، باوقار اور رعب دار نظر آنے والے اسپیشل پولیس اہلکار، جو عام دنوں میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، اس تہوار میں مکمل بھیگ کر "تر بتر” ہو جاتے ہیں، مگر پھر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے ہیں۔ ایک نوجوان نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر شیمپو سر پر لگا کر خود ہی لوگوں کو دعوت دی کہ اس پر پانی ڈالیں، اور یوں موقع پر ہی "مفت بال دھلائی” کا سیشن شروع ہو گیا، جو خوشی کو عروج تک پہنچا دیتا ہے۔ کئی غیر ملکی دوست بھی اس ہجوم میں گھل مل کر پانی کی بالٹیوں اور واٹر گنز کے ذریعے ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہوئے ، قہقہوں اور خوشیوں کے درمیان چینی ثقافتی تہوار کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث وہ مناظر بنے جن میں موقع پر ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس اہلکاروں اور فائر فائٹرز کا لوگوں کے ساتھ "غیر معمولی” تعامل تھا ۔ جو پولیس اہلکار عام طور پر نظم و ضبط برقرار رکھتے ہیں، وہی اس موقع پر خوشی کے "گھیراؤ” کا مرکز بن گئے۔ واٹر گنز اور بالٹیوں سے مسلسل پانی ان پر ڈالا جاتا رہا، اور اہلکار ڈھالیں اٹھا کر بچاؤ کی کوشش کرتے نظر آئے۔ بظاہر یہ منظر سنجیدہ لگتا تھا، مگر ان کے چہروں پر بچوں جیسی شوخی اور مسکراہٹ نمایاں تھی۔اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ فائر فائٹرز، جو عام طور پر ہنگامی امدادی کاموں میں مصروف رہتے ہیں، فائر بریگیڈ گاڑیوں کے ساتھ اس جشن میں شامل ہو گئے اور فائر ہوز کے ذریعے آسمان میں پانی کے فوارے چھوڑے، جس سے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ہجوم پر گرے اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔کچھ غیر ملکی صارفین نے سوال اٹھایا: "کیا چینی لوگ پولیس سے نہیں ڈرتے؟” اس سوال کا جواب انہی چھینٹوں میں پوشیدہ ہے ۔ دائی ثقافت میں پانی چھڑکنا خلوص اور نیک تمناؤں کی علامت ہے، اور جتنا زیادہ پانی ڈالا جائے، اتنی ہی زیادہ خیر خواہی سمجھی جاتی ہے۔ عوام کا پولیس اہلکاروں پر پانی ڈالنا کسی بے ادبی کا اظہار نہیں بلکہ تہوار کی حفاظت کرنے والوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہے۔ پولیس اور فائر فائٹرز بھی اس خوشی کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے اپنی روایتی سنجیدگی کو ایک طرف رکھ کر اس جشن میں شامل ہو جاتے ہیں، اور یوں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ "چین میں تو عوام کھلے عام پولیس کو بھی نہلا دیتے ہیں”۔چینی پولیس کی دلوں کو چھونے والی کہانیاں بہت ہیں۔ چند روز قبل میری اہلیہ ٹیکسی کے ذریعے ہسپتال جا رہی تھیں کہ راستے میں معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس نے گاڑی روک لی۔ ڈرائیور کے کاغذات میں کچھ مسئلہ تھا اور اسی باعث تصدیق میں کچھ وقت درکار تھا۔ میری اہلیہ نے جلدی ہسپتال پہنچنے کی ضرورت کا اظہار کیا، تو موقع پر موجود ایک پولیس افسر نے خود گاڑی چلا کر انہیں ہسپتال پہنچایا۔”کیا اب پولیس ڈرائیونگ سروس بھی فراہم کرتی ہے؟!” میری اہلیہ نے سوشل میڈیا پر یہ واقعہ بیان کیا تو سب "واہ واہ” کرنے لگے۔درحقیقت، چینی پولیس کے اعلیٰ سلوک اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں ہمیشہ لوگوں کی توقعات سے بلند رہی ہیں۔واٹر فیسٹیول کے دوران پولیس اور عوام کا یہ خوشگوار میل جول بعض مغربی ممالک کے ان مناظر کے برعکس دکھائی دیتا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اہلکار ڈھالیں تھامے عوام کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔یہ خوشگوار مناظر محض اتفاق نہیں بلکہ چین کے مستحکم معاشرے اور قومیتی ہم آہنگی کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ جمع ہو کر اس تہوار کو مناتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ پرسکون ہے، باہمی رشتے مضبوط ہیں اور پولیس و عوام کے درمیان تعلق قریبی اور خوشگوار ہے، تب ہی ایسے بے تکلف اور بھرپور خوشی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔واٹر فیسٹیول نے نہ صرف پریشانیوں کو بہا دیا بلکہ چین کی اصل تصویر بھی پیش کی:معاشرہ پرامن اور منظم ہے، عوام خوشحال اور محفوظ ہیں، تمام قومیتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں، اور پولیس اور عوام کے درمیان گرمجوشی بھرپور ہے۔ اس پرجوش ثقافتی تہوار نے نہ صرف دنیا کو چین کی اقلیتی ثقافتوں کی رعنائی دکھائی، بلکہ چینی طرز تحفظ اور خوشی کا احساس بھی دیا۔ دراصل،اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حقیقی نظم و ضبط سختی سے نہیں بلکہ خیر خواہی سے پیدا ہوتا ہے، اور بہترین معاشرہ وہ ہے جہاں ہر فرد خوشی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔پانی کے یہ چھوٹے چھوٹے قطرے دراصل چینی معاشرے کی گرمجوشی اور خوشی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسا پُرامن، خوشگوار اور ہم آہنگ منظر اس سوال کا بہترین جواب ہے کہ "چین کیوں کامیاب ہے”، اور ہر شخص اس سکون اور خوبصورتی کو دیکھ کر تازگی اور خوشی محسوس کر رہا ہے۔