چینی معیشت کا ” 5.0 فیصد” سے مضبوط آغاز

بیجنگ :بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ رپورٹ میں رواں سال عالمی اقتصادی نمو کی پیش گوئی 0.2 فیصد پوائنٹس کم کر کے 3.1 فیصد کر دی ہے۔ ایسے عالمی پس منظر میں چین کی پہلی سہ ماہی کی معیشت نے 5.0 فیصد شرح نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 0.5 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ اس "توقع سے بہتر” آغاز کو غیر ملکی میڈیا لچک، منڈی اعتماد اور دنیا کے لیے ایک مستحکم عنصر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔یونیورسٹی آف انٹرنیشنل بزنس اینڈ اکنامکس میں چائنیز اوپن اکانومی تھیوری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ سانگ بائی چھوان کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز کے باوجود چین نے اپنی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی، نئے معیار کی پیداواری قوتوں کو فروغ دیا اور اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو مضبوطی سے آگے بڑھایا، جس سے اقتصادی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کو نئی توانائی ملی۔ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ چینی معیشت کی بنیادیں مستحکم ہیں اور پالیسی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں رسد اور طلب کے درمیان عدم توازن میں بہتری آئی ہے، جبکہ نئے ترقیاتی محرکات معیشت کی قیادت کر رہے ہیں۔ چین نے بیرونی خطرات کے اثرات کو مؤثر طور پر کم کرتے ہوئے مضبوط معاشی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ عرصے میں میں کثیر القومی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران کے دورۂ چین، بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور توقعات سے بہتر معاشی نتائج نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔” 5.0 فیصد” کی شرح نمو نہ صرف پہلی سہ ماہی کی کامیابی ہے بلکہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے مضبوط آغاز اور دنیا کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹنے کا واضح اشارہ بھی ہے۔

Comments (0)
Add Comment