بیجنگ :جاپان میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس کا ڈسٹرائر "اکازوچی” آبنائے تائیوان سے گزرا، جس میں تقریبًاً 14 گھنٹے لگے۔ اسے نام نہاد "آزاد جہاز رانی ” نہیں کہا جا سکتا ، بلکہ یہ جاپان کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے وعدوں سے دستبرداری ، چین-جاپان تعلقات کی سیاسی بنیاد کو چیلنج کرنے، اور "نئی عسکریت پسندی” کے فروغ پر مبنی سوچی سمجھی اشتعال انگیزی ہے۔ایک چین کا اصول چین-جاپان تعلقات کی سیاسی بنیاد اور چین اور جاپان کی چار سیاسی دستاویزات میں طے شدہ اتفاق رائے ہے۔ لیکن سانائے تاکائچی حکومت نے امور تائیوان میں ممکنہ فوجی مداخلت کا کھلم کھلا اشارہ بھی دیا اور جنوب مغربی جزیروں میں فوجی تعیناتی کو بھی تیز کیا ، جو تائیوان سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلےپر ہیں ۔ اس کے علاوہ جاپان کی حکومت نے چین -جاپان تعلقات کو "سب سے اہم دو طرفہ تعلقات ” سے "اہم پڑوسیوں” کے زمرے میں تبدیل کر دیا ہے اور آبنائے تائیوان میں کشیدگی کو اپنے لیے ایک بڑی تشویش بھی قرار دے دیا ہے ۔ایسے اقدمات کے بعد جاپانی "ڈسٹرائر” اب آبنائے تائیوان سے گزرا ہے جو یقینی طور پر اشتعال انگیزی کی ایک کار روائی ہے ۔ ان تمام اقدامات نے ظاہر کیا ہے کہ جاپانی حکومت نے امور تائیوان کے حوالے سے اپنے وعدوں کو توڑ تے ہوئے چین-جاپان تعلقات کی سیاسی بنیاد کو شدید متاثر کیا ہے جس سے جاپان میں "عسکریت پسندی” کا یہ نیا رجحان مکمل طور پر دوبارہ زندہ ہوتا نظر آتا ہے ۔بین الاقوامی برادری، بشمول جاپانی عوامی رائے نے اس بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ 19 اپریل کو، ہزاروں جاپانیوں نے سانائے تاکائچی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی ختم کرنے اور امن آئین میں ترمیم جیسے اقدامات کے ذریعے عسکری توسیع کی خطرناک سمت کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے 16 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ جاپان کی جانب سے ‘دوبارہ عسکریت پسندی کی”جارحانہ کارروئیاں” ایشیا پیسیفک خطے کے استحکام اور خوشحالی کے لیے”سنگین خطرہ”ہیں ۔ اس کے علاوہ، جنوبی کوریا کی عوامی رائے نے بھی جاپان کی سلامتی پالیسی پر تنقید کی ہے۔یاد رہے کہ 80 سال سے زائد عرصہ پہلے، جاپانی عسکریت پسندی نے جارحانہ جنگ شروع کی، جس سے ایشیا کے مختلف ممالک کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ۔ آج جب جاپان میں ” نئی طرز کی عسکریت پسندی ” دوبارہ اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتی ہے ، تو اس حقیقی خطرے کا سامنا کرنے کے لئے ، چین کے پاس ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مضبوط عزم، بھرپور اعتماد اور زیادہ صلاحیت موجود ہے۔