بیجنگ :(چائنا ڈیسک) چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی سطح پر کیے گئے ایک سروے میں جاپان کی حالیہ عسکری پالیسیوں پر شدید خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ نتائج کے مطابق 82.5 فیصد شرکاء کا کہنا ہے کہ جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے "دوبارہ عسکریت پسندی” کی کوششیں دوسری عالمی جنگ سے قبل کے جاپانی عسکری توسیع پسندانہ طرزِ عمل سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ملک کو ایک بار پھر خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہیں۔سروے کے مطابق 85.1 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ جاپان کی جانب سے حالیہ دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی اور فوجی توسیع کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں کی دائیں بازو کی قوتیں سیکیورٹی پالیسی کو دفاعی سے جارحانہ اور توسیع پسندانہ سمت میں لے جا رہی ہیں، جو ایشیا بحرالکاہل خطے کے لیے ایک نیا اور حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں۔مزید برآں، 86.3 فیصد افراد نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان تیزی سے جنگ کے بعد کے نظام کی پابندیوں سے نکل کر دوبارہ عسکریت پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے جاپانی عسکری سوچ کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔سروے میں 87.9 فیصد شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دوسری عالمی جنگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر جاپان کو چاہیے کہ وہ اپنے "امن آئین” اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے اور عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات کا احترام کرے۔اسی طرح 86.8 فیصد جواب دہندگان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جاپان کے "نئے عسکریت پسند” رجحانات کی سختی سے مخالفت کرے اور دوسری عالمی جنگ کی کامیابیوں اور بعد از جنگ عالمی نظام کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔