اعتصام الحق
چین کے دلکش ساحلی شہر سانیا میں جب ایشین بیچ گیمز 2026 کا آغاز ہوا تو محسوس ہوا کہ یہ صرف کھیلوں کا میلہ نہیں بلکہ ایک مکمل، جیتی جاگتی دنیا ہے ۔ میں اس وقت سانیا میں موجود ہوں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ یہاں ہر چیز ایک ترتیب، ایک تال اور ایک سوچ کے تحت رواں دواں ہے۔
کسی بھی اسپورٹس ایونٹ کی کوریج کے لئے سب سے اہم جگہ اس کا میڈیا سینٹر ہو تا ہے جہاں آپ کو بر وقت تمام اطلاعات تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔سانیا کے ان گیمز میں ایک بڑے ہوٹل کی لابی کا ایک بڑا علاقہ اس کام کے لئے مختص ہے ۔میڈیا سینٹر میں داخل ہوتے ہی پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ کام یہاں مشکل نہیں، آسان بنا دیا گیا ہے۔ وسیع ہالز، جدید سہولیات، تیز رفتار انٹرنیٹ اور ہر قدم پر موجود عملہ ۔یوں لگتا ہے جیسے آپ کی ضرورت آپ کے کہنے سے پہلے ہی سمجھ لی گئی ہو۔ ایشیا کے ۴۵ ممالک کے علاوہ بھی دنیا بھر سے آئے صحافی اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں، مگر ماحول میں کہیں بھی بے ترتیبی یا افراتفری کا شائبہ نہیں۔
کھلاڑیوں کے لیے قائم کیا گیا اسپورٹس ولیج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یاد رہے کہ ان ایشین گیمز میں ایشیا بھر سے ۱۸۰۰ کھلاڑی اور اس کے علاوہ ان کے وفود کے ارکان یہاں مقیم ہیں ۔یہ یقینا ایک بڑی تعداد ہے جس کے لئے انتظامات آسان نہیں ۔یہاں صرف رہائش نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی فراہم کی گئی ہے۔ صاف ستھرے کمرے، معیاری خوراک، تربیتی سہولیات اور سکون کا ایک احساس جو کھلاڑیوں کے لئے ان کی کارکردگی بڑھا نے کا سبب بھی ہے ۔یہ سب کچھ دیکھ کر یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کارکردگی کے پیچھے سہولت کتنی اہم ہوتی ہے۔
میری رہائش جس ہوٹل میں تھی، وہاں سے کھیلوں کے مقامات تک رسائی حیران کن حد تک آسان تھی۔ مخصوص بسیں اور شٹل سروسز مقررہ وقت پر روانہ ہوتی ہیں اور بغیر کسی الجھن کے ہمیں اپنی منزل تک پہنچا دیتیں۔ نہ انتظار کی کوفت، نہ راستوں کی الجھن ،بس ایک ہموار سفر۔ ہر روز ہوٹل کی لابی میں تمام روسٹرز اور چارٹس آویزاں ہو تے ہیں جن میں اس روز کے مقابلوں کی تفصیلات ،موسم کا حال ،شٹل سروس کے اوقات اور ان گاڑیوں کے نمبرز اور ساتھ ہی میڈیا کے لئے فیلڈ ٹورز کے انتظامات بھی تا کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں ان اس شہر کے بارے میں جان سکیں اور سیر و سیا حت کا شوق بھی پو را کر لیں۔اس کے علاوہ کئی ویب سائٹس اور سوچل میڈیا گروپس بھی میڈیا کے تمام افراد کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھتے ہیں اور اگر کسی کا کوئی مسئلہ بھی ہو تو وہ بھی اسی لمحے حل کر لیا جاتا ہے۔
ایک خیال یہ ضرور آتا ہے کہ اتنا سب کچھ کرنے کے لئے کسی انسانی وسائل کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے تو اس کا جواب رضاکاروں کی وہ فوج ہے جو آپ کو ائر پورٹ پر خوش آمدید کہنے ،ہوٹل تک لانے ،آپ کے ایکریڈیشن کارڈ کی آپ کو فراہمی ،آپ کے کمروں اور آپ کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک ایک لمحہ آپ کے ساتھ ہوتی ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے چہروں پر ہمیشہ ایک خوشگوار مسکراہٹ نظر آتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بھی اپنے شہر میں اس بین الاقوامی مقابلے کے لئے آنے والوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں دنیا بھر سے آئے ہوئے ان افراد کی مہمان نوازی کر کے خوشی محسوس ہورہی ہے ۔ میں اگر کہوں کہ یہ رضاکار نہ ہوتے تو شاید یہ انتظامات اتنے عمدہ انداز میں نہ دکھائی دیتے تو غلط نہ ہو گا ۔ایسا اس لئے نہیں کہہ رہا کہ ان کے بغیر یہ ممکن نہ ہو تا لیکن ان کی انتھک محنت کو خراج تحسین پیش نہ کیا جا ئے تو کتنی بڑی نا انصافی ہو گی ۔
سیکیورٹی کے انتظامات اب دنیا بھر میں خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔یہاں بھی یہ انتظامات ہر جگہ نظر آئے لیکن اچھی بات یہ رہی کہ یہ انتظامات اتنے عمدہ تھے کہ طبیعت پر گراں نہیں گزرے ۔ ہر چیز خاموشی سے، مؤثر انداز میں چلتی رہی ہے ۔
یہ سب دیکھتے ہوئے بار بار خیال آتا ہے کہ یہ مہارت ایک دن میں حاصل نہیں ہوئی۔ ماضی میں بیجنگ ونٹر اولمپکس 2022 اور کئی بار ایشین گیمز جیسے بڑے ایونٹس کی کامیاب میزبانی نے چین کو وہ تجربہ دیا ہے، جو اب ہر چھوٹی بڑی تفصیل میں جھلکتا ہے۔یوں محسوس ہو تا ہے کہ اب چین کے لئے اس طرح کے بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد مشکل نہیں رہا ۔
سانیا میں گزرا یہ وقت صرف کھیلوں کی کوریج نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ہے جہاں منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور مہمان نوازی مل کر ایک یادگار تجربہ تخلیق کرتے ہیں۔ یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ جب نیت، تیاری اور تجربہ ایک جگہ جمع ہو جائیں تو کسی بھی ایونٹ کو غیر معمولی بنایا جا سکتا ہے۔