وزیر اعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر پر شہریوں سے معذرت کر لی


کراچی:

سندھ حکومت نے کراچی کے اہم ریڈ لائن منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر ایف ڈبلیو او نے منصوبے کے ٹھپ پڑے کام کو دوبارہ شروع کردیا ہے۔ 

صوبائی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور ڈرینیج کا کام 90 دن کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے، سندھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ پرانے ٹھیکیدار کا دفتر سیل ہونے کے بعد کیا گیا۔ 

سندھ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ریڈ لائن منصوبہ ایف ڈبلیو او کے سپرد کردیا ہے، وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ نے اعلان کیا کہ عید کی تعطیلات کے دوران بھی کام جاری رہے گا تاکہ تین ماہ میں منصوبہ مکمل ہوکر شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کے لاٹ ٹو کے دونوں اطراف کام کو تین ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا خاص طور پر ان جگہوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہوگا جس سے عوام متاثر ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نمائش چورنگی سے لیکر موسمیات چورنگی تک ریڈ لائن منصوبے کے دونوں اطراف پانی کی لائنیں،سروس روڈ، ڈرینیج لائنوں کا کام جولائے کے آخر میں مکمل کرلیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سندھ کی جانب سے ایف ڈبلیو او کو مئی یا جون میں کام مکمل کرنے کا کہا گیا  جس پر ایف ڈبلیو او نے تین ماہ میں کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ 

میئر کراچی مرتضی وہاب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر ایف ڈبلیو او نے اتوار کے دن  سے کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ 

وزیرِاعلیٰ سندھ نے مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور ڈرین کا کام 90 دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یونیورسٹی روڈ  کے تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ  مکسڈ ٹریفک لین کو 3 ماہ کے اندر بحال کردیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی تکالیف کا ازالہ ضرور کریں گے اور کوشش کریں گے  کام کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے، انھوں نے یہ بات بی آرٹی ریڈ لائن  کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بی آرٹی ریڈ لائن لاٹ  ٹو کے مین کوریڈور کا ٹینڈر دوبارہ جاری کیا جائے گا۔



پی این پی

latest news
Comments (0)
Add Comment