اسلام آباد:
ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے فوری امکانات نہ ہونے کے باوجود یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارت کاری بھرپور طریقے سے زندہ ہے۔
پسِ پردہ سرگرمیاں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جاری سفارتی مصروفیات کے سلسلے میں عمان میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد اسلام آباد واپس پہنچ گئے۔
عراقچی نے ایک پاکستانی طیارے میں مسقط کا سفر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی اپنے ساتھ تحریری پیغامات بھی لائے تھے جن میں ایٹمی ریڈ لائنز اور آبنائے ہرمز پر تہران کے موقف کی وضاحت بھی شامل تھی۔
حکام نے بتایا کہ یہ پیغام رسانی باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھی بلکہ جاری سفارتی کوششوں کے درمیان ایران کے موقف کو واضح طور پر پہنچانے کی ایک کوشش تھی۔ عراقچی ماسکو چلے گئے ہیں جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت روسی حکام سے ملاقات کریں گے۔
اب تک جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ خطے کے کئی ممالک اب سفارتی کوششوں میں فعال طور پر شامل ہیں۔ عمان سے واپسی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے قطری اور سعودی ہم منصبوں سے بھی الگ الگ رابطے کیے ۔
خلیجی ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں کہ کسی بھی مستقبل کے معاہدے میں ان کے تحفظات کے بھی عکاسی ہو۔ ترکیہ بھی کشیدگی کم کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ۔ پاکستان ان سفارتی چالوں کے مرکز میں برقرار ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے براہ راست مذاکرات کے امکان کو اب بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ بات چیت کو صیغہ راز میں رکھنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ میڈیا کی ضرورت سے زیادہ توجہ کو نقصان دہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے دشمنی دوبارہ شروع کرنے یا جنگ بندی ختم کرنے کے کسی ارادے کا اشارہ نہیں دیا جس سے اس احساس کو تقویت ملتی ہے کہ سفارت کاری کے لیے جگہ محفوظ رکھی جا رہی ہے۔
سفارتی ذرائع نے کہا کہ کوئی بھی فریق دوبارہ تصادم نہیں چاہتا۔ یہ نظریہ بھی بڑھ رہا ہے کہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک کھلا رکھنے کا فیصلہ ایک وسیع تر تفہیم کا حصہ ہے تاکہ سفارت کاری کو پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے کافی وقت دیا جا سکے۔
پی این پی