اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بھارت نے روس کے ساتھ جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائلوں کی خریداری کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
اس ڈیل کے تحت نئی نسل کے ایسے میزائل حاصل کیے جائیں گے جو فضا میں اہم عسکری اہداف کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آر-37 ایم میزائل تقریباً 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ ہتھیار خاص طور پر ان طیاروں کے خلاف مؤثر سمجھے جاتے ہیں جو جنگی کارروائیوں میں معاون کردار ادا کرتے ہیں، جیسے اواکس طیارے اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکرز۔دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے معاون طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کسی بھی فضائی جنگ میں اہم حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے مخالف ملک کی فضائی حکمت عملی اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں کچھ حد تک برتری حاصل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان چینی تعاون سے اپنی فضائی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میزائلوں کی موجودگی پاکستان کو اپنے معاون فضائی اثاثے محاذ سے دور رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے اس کی کارروائیوں کی رفتار متاثر ہونے کا امکان ہے۔تاہم دفاعی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف یہ میزائل کسی بھی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ان کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب انہیں بھارت کے مجموعی فضائی دفاعی نظام کے ساتھ مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان بھی اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور فضائی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں طاقت کا توازن مزید پیچیدہ بنتا جا رہا ہے۔
پی این پی