اوورسیز پاکستانی خاتون بائیکر کا برطانیہ سے پاکستان تک جرات مندانہ سفر مکمل

اوورسیز پاکستانی خاتون بائیکر کا برطانیہ سے پاکستان تک منفرد اور جرات مندانہ سفر مکمل ہوگیا۔

خاتون بائیکر کا کہنا ہے کہ میرا تعلق سرگودھا سے ہے، سفر کے دوران خواتین بائیکرز اور ایسوسی ایشنز نے بھرپور تعاون کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بائیک کی مرمت کا مکمل سامان اور سیٹلائٹ فون کے ساتھ سفر کا جامع پلان بنایا تھا۔

خاتون بائیکر نے کہا کہ روایتی جرمنی روٹ کے بجائے اٹلی اور یونان کا راستہ اختیار کیا لیکن ایران کے قریب جنگی صورتحال کے باعث واپس جانا پڑا اور روٹ تبدیل کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ متبادل راستہ اختیار کرکے کراچی پہنچی تو ایک بائیکر نے بائیک تحفے میں دی۔

خاتون بائیکر کا کہنا تھا کہ روزانہ صبح سویرے سفر کا آغاز کرتی تھی تاکہ محفوظ انداز میں منزل طے ہو، سندھ میں معمولی حادثہ پیش آیا لیکن سفر جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ میں عوام کی جانب سے بھرپور محبت اور پھولوں سے استقبال کیا گیا، لاہور پہنچ کر اپنے تاریخی بائیک سفر کا کامیاب اختتام کیا۔

خاتون بائیکر کا کہنا تھا کہ لاہور کی بائیکرز نے بیرونِ ملک سفر کے حوالے سے رہنمائی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ مشکلات کے باوجود فیصلہ کیا کہ لڑکیوں کو بھی تنہا بائیکنگ کا حوصلہ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بائیکرز کی زندگی اور تجربات پر مبنی کتاب بھی تحریر کرچکی ہوں۔ اگست اور ستمبر میں غیر ملکی بائیکرز کو پاکستان لانے کا منصوبہ ہے۔

خاتون بائیکر کا کہنا تھا کہ میری ذاتی بائیک الجیریا میں موجود ہے، آئندہ مزید بین الاقوامی سفر کا ارادہ ہے۔



پی این پی

Overseas Pakistani female biker completes daring journey from UK to Pakistan
Comments (0)
Add Comment