چین طاقت کے بڑے مرکز سے پر کشش بڑی طاقت کی جانب رواں دواں ہے، چینی میڈیا

بیجنگ:سی جی ٹی این کے خصوصی تبصرہ نگار ڈیوڈ گوسٹ نے حال ہی میں اپنے ایک تبصرے میں یہ خیال ظاہر کیا کہ چین طاقت کے بڑے مرکز سے پرکشش بڑی طاقت کی جانب رواں دواں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوامی رائے میں ایک خاموش لیکن قابل پیمائش تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کے حالیہ سروے کے مطابق، 27 فیصد امریکیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا ہے، جو ایک سال میں چھ فیصد کا اضافہ ہے اور 2023 کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہے۔ یہ اعداد و شمار ابھی بھی معتدل ہیں، لیکن سمت اہم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی مقابلے اور سیاسی بیانیے سے ہٹ کر ، عوامی تاثرات ان ڈھانچہ جاتی حقیقتوں کے مطابق ڈھل رہے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس تبدیلی کی بنیاد معیشت​ میں پوشیدہ ہے۔ "ڈی کپلنگ” کی سوچ کے باوجود، امریکہ اور چین آج بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں۔اس لحاظ سے، چین کے بارے میں بہتر تاثر کسی کو قائل کرنے سے زیادہ روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے​ کا نتیجہ ہے۔ معیشت کے علاوہ، ایک جغرافیائی سیاسی پہلو​ بھی ہے جو چین کی بدلتی تصویر کی تشکیل کر رہا ہے ۔ تنازعات سے بھرے اس عالمی منظر نامے میں، چین نے خود کو استحکام پیدا کرنے والی قوت اور امن کا معاون ثابت کیا ہے ۔ وہ علاقے جو بڑٖی طاقتوں کی مداخلت کا شکار ہیں اور ان کے طرز عمل سے تھک چکے ہیں وہاں چین کا خود مختاری، عدم مداخلت اور مذاکرات سے مسائل کے حل کا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے ۔ علاقائی تنازعات میں تصادم کے بجائے ثالثی اور مکالمے پر زور، ایک ایسے چین کی تصویر پیش کرتا ہے جو قابل بھروسا اور اعتدال کا حامل ملک ہے۔

یہ تاثر ایک واضح تضاد سے مزید واضح ہو تا ہے ۔ امریکہ، جو اب بھی ایک غالب عالمی طاقت ہے، بیرون ملک اور اپنے ہی عوام کی نظر میں بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن اور حکمت عملی میں عدم تسلسل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی اداروں جیسے اہم مسائل پر انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ پالیسی میں اتار چڑھاؤ، تجارتی اور خارجہ پالیسی میں اچانک تبدیلیاں، اور اندرون ملک بے چینی ، یہ سب مل کر ایک غیر متوقع احساس پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس، چین کی طویل مدتی منصوبہ بندی ،جیسے پانج سالہ منصوبے اور پالیسی کا تسلسل تقابلی طور پر اطمینان بخش محسوس ہوتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment