اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے جبکہ دیگر اپیلیں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہیں گی۔
سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں ایک دوسرے کے تابع نہیں بلکہ آئینی طور پر خودمختار عدالتیں ہیں اور کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے طے کردہ قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لاگو ہوں گے۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کے 17 فروری 2020 کے فیصلے کے خلاف دائر متعدد درخواستوں پر یکم اپریل 2026 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کردیا۔
13صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت کے سامنے تین سول پٹیشنز، ایک سول متفرق درخواست اور دو فوجداری نوعیت کی توہینِ عدالت کی درخواستیں زیر سماعت تھیں جن میں بنیادی سوال 27ویں آئینی ترمیم کے بعد دائرہ اختیار کے تعین کا تھا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 189(1) کو27ویں ترمیم کے بعد کے آئینی ڈھانچے کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے جو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔
یہ تقسیم ہر عدالت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں خصوصی اختیار دیتی ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک عدالت دوسری کے ماتحت ہے۔ آرٹیکل 189(1) کی کسی بھی وسیع تشریح کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک اعلیٰ عدالت کو دوسرے کے تابع کر دیا جائے، جو آئین میں کہیں بھی نہیں لکھا۔
آرٹیکل 189(1) قانونی اصولوں کی وضاحت میں یکسانیت لاتا ہے لیکن یہ عدالتوں کے آزاد اختیارات کو ختم نہیں کرتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175F کے تحت ہائی کورٹ کے وہ مقدمات جو آئینی دائرہ اختیار (آرٹیکل 199) کے تحت آتے ہیں، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے جبکہ دیگر سول یا فوجداری اپیلیں آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماضی میں یکساں قانونی نکات کی بنیاد پر مختلف نوعیت کے مقدمات کو اکٹھا سنا جاتا تھا تاہم نئی آئینی ترمیم کے بعد ایسے مقدمات کو الگ کرنا ناگزیر ہے تاکہ ہر کیس اپنے متعلقہ فورم پر سنا جا سکے۔
عدالت نے اس امر کا بھی نوٹس لیا کہ ایک ہی قانونی سوال مختلف عدالتوں میں زیر سماعت آنے سے متضاد فیصلوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس تناظر میں عدالت نے جوڈیشل کمیٹی کے اصول کو اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ مناسب صورت میں اپنی کارروائی موخر کر سکتی ہے تاکہ پہلے متعلقہ قانونی سوال پر وفاقی آئینی عدالت فیصلہ دے سکے۔
فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں آئینی طور پر خودمختار عدالتیں ہیں اور کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے طے کردہ قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لاگو ہوں گے، توہینِ عدالت کے معاملے پر ہر عدالت کو اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے مکمل اختیار حاصل ہے۔
توہینِ عدالت دراصل عدالت اور مبینہ توہین کرنے والے کے درمیان معاملہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد عدالتی وقار اور نظامِ انصاف کا تحفظ ہے۔ اس میں سول توہین (عدالتی حکم عدولی)، فوجداری توہین (نظامِ انصاف میں رکاوٹ) اور عدالتی توہین (عدالت یا جج کی تضحیک) شامل ہیں۔
یہ مقدمات پشاور ہائی کورٹ کے ایک مشترکہ فیصلے سے متعلق تھے جس میںدو درخواستوں کو یکجا کر کے فیصلہ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں کے دوران سٹیٹس کو کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی سامنے آئیں۔
پی این پی