اسلام آباد:پاکستان میں پولینڈ کے سفیر ماچے پریسارسکی (Maciej Pisarski)نے پولینڈ کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور پولینڈکے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات، عالمی چیلنجز اور اسلام آباد میں اپنی سفارتی مدت کے تجربات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، وفاقی وزراء، سفارتکاروں اور سفارتی عملے کے اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ Third May Constitution پولینڈ کی آزادی، خودمختاری اور شہری بااختیاری کی جدوجہد کی ایک نمایاں علامت ہے۔
اپنی تقریباً ساڑھے چار سالہ تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزارا گیا وقت ان کے لیے “منفرد لمحات، غیر معمولی ملاقاتوں اور غیر متوقع تجربات” سے بھرپور رہا، جس نے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ان کی تعیناتی اختتام کے قریب ہے اور یہ خطاب ممکنہ طور پر ان کا الوداعی خطاب ہو سکتا ہے، جس میں انہوں نے عالمی حالات اور دوطرفہ پیش رفت کا جائزہ لیا۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر نے جاری تنازعات اور انسانی بحرانوں کا ذکر کیا اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری، علاقائی سالمیت کے احترام، اور شہریوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ان اقدامات کو مثبت قرار دیا۔
دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں ماچے پریسارسکی کے دورۂ اسلام آباد کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران پاکستان کی قیادت، بشمول صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ہونے والی ملاقاتوں نے تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
انہوں نے اس سال کے آغاز میں محسن نقوی کے دورۂ پولینڈ کے بعد سیکیورٹی تعاون میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔
سفیر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت 1.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جسے انہوں نے جی ایس پی پلس کے تحت ایک کامیابی قرار دیا، تاہم انہوں نے مزید برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سندھ میں توانائی کے شعبے میں پولینڈ کی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور فنی تربیت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے فن ٹیک، گرین ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں مستقبل کے تعاون کو امید افزا قرار دیا۔
اپنی تقریر کے ایک بڑے حصے میں انہوں نے عوامی روابط پر زور دیا، جن میں تعلیمی پروگرام، فنی تربیت، شمالی پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے منصوبے، اور اسلام آباد سمیت دور دراز علاقوں جیسے چپورسن ویلی میں مقامی این جی اوز کے ساتھ تعاون شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ کو سراہتے ہوئے بلند چوٹیوں کو سر کرنے کی تاریخی کامیابیوں کا ذکر کیا، جبکہ Polish Institute of International Affairs اور Institute of Strategic Studies Islamabad کے درمیان علمی و تحقیقی تعاون کو بھی اجاگر کیا۔
اختتام پر سفیر نے اپنی اہلیہ، سفارتی عملے، مقامی ساتھیوں اور پاکستانی دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے ان پر گہرا اور دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔انہوں نے لاہور، کراچی، پشاور، اسکردو اور ہنزہ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں کے اپنے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تجربات نے انہیں پاکستان کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو سراہتے ہوئے پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔