بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کی۔جمعرات کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے تعلقات کی مستحکم، صحت مند اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ میں اور صدر ٹرمپ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات کی تعمیرکو باہمی تعلقات کی نئی پوزیشننگ قرار دیا جائے، جو آئندہ تین برسوں بلکہ اس سے بھی طویل مدت کے لیے چین امریکہ تعلقات کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی۔ "تعمیری اسٹریٹجک استحکام” سے مراد تعاون پر مبنی مثبت استحکام، اعتدال پسند مسابقت پر مبنی عمدہ استحکام، ایسا معمول کا استحکام جس میں اختلافات قابلِ کنٹرول ہوں، اور ایسا دیرپا استحکام ہے جس سے پرامن مستقبل کی توقع کی جا سکے۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں۔ گزشتہ روز دونوں ممالک کی اقتصادی و تجارتی ٹیمیں عمومی طور پر متوازن اور مثبت نتیجے پر پہنچی ہیں اور چین امریکا کی جانب سے چین کے ساتھ باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ "تائیوان کی علیحدگی پسندی” آبنائے تائیوان کے درمیان امن سے مطابقت نہیں رکھتی۔ آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کا تحفظ، چین اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کا سب سے اہم نکتہ ہے، لہذا امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چین تعلقات بہت اچھے ہیں۔ میں نے صدر شی کے ساتھ دوستانہ روابط برقرار رکھتے ہوئے بہت سے اہم مسائل کو حل کیا ہے۔ صدر شی جن پھنگ ایک عظیم رہنما ہیں اور چین ایک عظیم ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر شی جن پھنگ کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانے، اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے اور امریکا-چین تعلقات کو تاریخ کے بہترین دور میں داخل کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے لیے بہتر مستقبل تخلیق کیا جا سکے۔ امریکہ اور چین دنیا میں سب سے اہم اور طاقتور ممالک ہیں۔ امریکا-چین تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا کے لیے بھی بہت سے عظیم اور اچھے امورانجام دے سکتا ہے۔ دونوں سربراہان مملکت نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین کے بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت اہم بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں صدور نے رواں سال اپیک رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس اور جی-20 سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لئے ایک دوسرے کی حمایت پر اتفاق کیا۔