باہمی تعلقات کی نئی پوزیشننگ، چین امریکہ تعلقات کا نیا باب ہے، چینی میڈیا

بیجنگ : "چین-امریکہ سربراہان نے دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی پوزیشن واضح کی” ، "چین-امریکہ مکالمہ عالمی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے”، "بیجنگ ملاقات نے دنیا کو مثبت اور تعمیری پیغام دیا”… امریکی صدر ٹرمپ کا حالیہ دورہ چین عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ ایک تاریخی ملاقات ہے جس نے دنیا کو مثبت پیغام دیا ہے۔ حالیہ دورے میں دونوں ممالک کے سربراہان نے اتفاق کیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات کی تعمیرکو باہمی تعلقات کی نئی پوزیشننگ قرار دیا جائے، جسے دونوں ممالک کے عوام اور عالمی برادری نے خوش آمدید کہا۔ نئی پوزیشننگ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ اس میں سب سے اہم بات ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کا احترام کرنا ہے۔ تائیوان کا معاملہ چین-امریکہ تعلقات کا سب سے اہم مسئلہ اور اس کی سیاسی بنیاد سے متعلق ایک اہم معاملہ ہے۔ ملاقات کے دوران، چین نے محسوس کیا کہ امریکہ چین کے موقف کو سمجھتا ہے، چین کے خدشات کو اہمیت دیتا ہے اور عالمی برادری کی طرح تائیوان کی علیحدگی کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی قبول کرتا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی و تجارتی تعاون کو چین۔امریکہ تعلقات میں بدستور "استحکام کا ستون” اور "پیش رفت کا محرک” رہنا چاہیے۔ چین-امریکہ سربراہ ملاقات میں، چین نے دوبارہ امریکہ کو چین کے ساتھ باہمی فائدہ مند تعاون بڑھانے پر خوش آمدید کہا۔ صدر ٹرمپ نے بھی چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کے حوالے سے اپنے ہمراہ آنے والی امریکی کاروباری شخصیات کی حوصلہ افزائی کی۔عالمی برادری کو توقع ہے کہ مستقبل میں چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی فہرست مسلسل طویل ہو تی جائے گی اور مسائل کی فہرست میں کمی آئے گی، اور عملی اقتصادی اور تجارتی تعاون سے ترقی کے مزید مشترکہ مواقع میسر آئیں گے۔ امید ہے کہ دونوں فریق سربراہان مملکت کے اہم اتفاق کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوں گے،اور نئی پوزیشننگ کو ٹھوس پالیسیوں اور عملی اقدام میں تبدیل کریں گے، تاکہ 2026 چین۔امریکہ تعلقات میں ایک تاریخی اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا سال ثابت ہو۔

Comments (0)
Add Comment