کراچی:
کاٹن ایئر 2026-27 میں مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی ضروریات پوری کرنے کیلیے 72 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ روئی درآمد کرنے کے امکانات ہیں۔
اس سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوارگذشتہ سال کی نسبت 2 لاکھ 72 گانٹھ کی کمی سے 69 لاکھ 40 ہزارگانٹھ ہونے کے امکانات ہیں، جبکہ مقامی کھپت کا تخمینہ ایک کروڑ 41 لاکھ 50 ہزار روئی کی گانٹھوں کا لگایا جا رہا ہے ، کھپت کا مکمل انحصار حکومت کی متعلقہ پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے یو ایس ڈی اے کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایکسپریس کو بتایاکہ رپورٹ میں عالمی سطح پرکپاس پیداکرنیوالے بڑے ممالک میں کپاس کی پیداواراورکھپت سے متعلق کہاگیاہے کہ اس سال کے دنیا بھرمیں سب سے زیادہ کپاس کی پیداوار 4کروڑ 56گانٹھوں کے ساتھ چین میں ہوگی۔
جبکہ بھارت میں 3کروڑ 26لاکھ گانٹھ، برازیل میں 2کروڑ 38لاکھ گانٹھ اورامریکامیں ایک کروڑ 80لاکھ گانٹھوں پر مشتمل پیداوار متوقع ہے۔
پاکستان میں گزشتہ ہفتے پنجاب میں 6جننگ فیکٹریاں فعال ہیں ،سندھ میں عیدالاضحیٰ سے قبل 2 جننگ فیکٹریاں فعال ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں عید الاضحیٰ کے بعدکاٹن جننگ سیزن شروع ہونے کی توقعات ہیں،جبکہ اس وقت پھٹی کے نرخ 11ہزار 500روپے فی 40کلو گرام اورروئی کے نرخ 22ہزار 500 روپے فی من پر مستحکم ہیں،عیدکے بعدمقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کاواضح صورتحال سامنے آسکے گی۔
انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں اس وقت کاٹن جننگ سیکٹر پرریکارڈ 84فیصدسیلز ٹیکس عائد ہے،جس کے بعدکئی کاٹن جنرز اور آئل ملزمالکان غیردستاویزی کاروبارکرنے کوترجیح دے رہے ہیں۔
لیکن اس سے قومی خزانے کوریونیوکی مدمیں نقصان پہنچنے کے ساتھ پاکستان میں کپاس کی مجموعی قومی پیداوارکے اعدادوشمارمتنازعہ ہورہے ہیں اور بیرونی دنیامیں پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پرکمی کی اطلاعات پہنچنے سے منفی تاثر بھی قائم ہورہاہے، وفاقی حکومت کوچاہیے کہ وہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی تجاویزکووفاقی بجٹ کاحصہ بنائے۔
پی این پی