چین-امریکہ تعلقات کا ایک بہتر مستقبل ضرور ہو سکتا ہے، چینی میڈیا

بیجنگ، بہار ختم ہونے والی ہے اور موسم گرما اپنی ابتدائی سانسیں لے رہا ہے۔ حال ہی میں بیجنگ کے مرکزی شاہراہوں اور رنگ روڈز پر ڈرائیو کرتے ہوئے، سب سے زیادہ دلکش مناظر ان دسیوں کلومیٹر طویل روڈ ڈویژن پر لگی ہوئی گلاب کی بیلوں کی دیواروں کا ہے، جو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر نے اپنے گلے میں روشن رنگوں کا ایک چمکتا ہوا "گلاب کا ہار” پہن لیا ہو۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا ہے کہ شاید یہ شاندار پھولوں کا اہتمام امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے استقبال کے لیے خاص طور پر کیا گیا ہے۔ یہ بات مزاحیہ تو ہے لیکن کچھ حد تک سطحی بھی، کیونکہ ہوا کے چلنے یا رکنے سے پھول کو کوئی فرق نہیں پڑتا، پھول وہیں رہتے ہیں، اپنی مرضی سے کھلتے اور مرجھاتے ہیں، مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے،لیکن چین یہیں ہے، بغیر کسی ہلچل کے اپنی جگہ قائم ہے۔صدر ٹرمپ کے اس دورۂ چین کا سب سے زیادہ توجہ طلب نتیجہ یہ رہا کہ دونوں فریقوں نے "چین-امریکہ تعمیری اسٹریٹجک استحکام تعلقات” کی تعمیر کو دو طرفہ تعلقات کی نئی حیثیت کے طور پر تسلیم کرنے پر اتفاق کیا، جو آئندہ 3 سالوں اور اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیے ان تعلقات کے لیے ایک اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گا۔ "تعمیری اسٹریٹجک استحکام” دراصل تعاون پر مبنی مثبت استحکام، مقابلے کی حدود کے ساتھ مفید استحکام، اختلافات کے قابلِ انتظام معمول کا استحکام، اور امن کی توقع سے بھرپور پائیدار استحکام ہونا چاہیے۔ چینی فریق نے امریکہ کے ساتھ مل کر دو طرفہ تعلقات کی نئی حیثیت کو عملی اقدامات میں بدلنے، اور مشترکہ طور پر ان تعلقات کی مستحکم، صحت مند اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔یہ کہنا کہ چین-امریکہ تعلقات آج دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں، بھارتیوں کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی اس کی مخالفت کرے۔ چینی قائد نے متعدد بار چین-امریکہ تعلقات کے بنیادی مسائل پر اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ مارچ 2024 میں، صدر شی جن پھنگ نے امریکی کاروباری حلقوں اور اسٹریٹجک علمی نمائندوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ "چین-امریکہ تعلقات ماضی میں تو واپس نہیں جا سکتے، لیکن ان کا ایک بہتر مستقبل ضرور ہو سکتا ہے”۔ 14 مئی کو، صدر شی نے بیجنگ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات میں کہا کہ "کیا چین اور امریکہ ‘تھوسیڈائیڈز کے ٹراپ’ (Thucydides Trap) سے گزر سکتے ہیں اور بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا نمونہ ترتیب دے سکتے ہیں؟ کیا وہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں اور دنیا میں مزید استحکام لا سکتے ہیں؟ کیا وہ دونوں ممالک کے عوام کی بہبود اور انسانیت کے مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ان تعلقات کا ایک خوبصورت مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟ یہ تاریخ کے سوال ہیں، دنیا کے سوال ہیں، عوام کے سوال ہیں، اور بڑے ملکوں کے قائدین کے لیے مشترکہ طور پر لکھے جانے والے دور کے جوابات ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین-امریکہ تعلقات کے اس "جائنٹ شپ ” کو درست سمت میں لے جا نے کے لیے تیار ہوں، تاکہ 2026 چین-امریکہ تعلقات کے لئے ایک تاریخی اور علامتی سال بنے۔چینی قائد کے اس مؤقف کے جواب میں، صدر ٹرمپ کا مؤقف بھی اتنا ہی متاثر کن تھا، انہوں نے کہا کہ "صدر شی جن پھنگ ایک عظیم قائد ہیں، چین ایک عظیم ملک ہے، میں صدر شی جن پھنگ اور چینی عوام کا بہت احترام کرتا ہوں۔ آج کی ملاقات ایک انتہائی اہم اور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ملاقات ہے۔ میں صدر شی کے ساتھ مل کر رابطے اور تعاون کو مضبوط کرنے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے، اب تک کے بہترین امریکہ-چین تعلقات کے آغاز، اور دونوں ممالک کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ امریکہ اور چین دنیا کے سب سے اہم اور طاقتور ممالک ہیں، امریکہ اور چین کا تعاون دونوں ممالک اور دنیا کے لیے بہت بڑے اور اچھے کام کر سکتا ہے۔””چین-امریکہ تعلقات ماضی میں واپس نہیں جا سکتے، لیکن ان کا ایک بہتر مستقبل ہو سکتا ہے”، چینی قائد کا یہ جملہ بہت گہرا ہے، جس پر امریکی سیاست دانوں کو اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ ہاں، صدر ٹرمپ کے آخری دورۂ چین کو نو سال گزر چکے ہیں، "صدی میں پہلے نہ دیکھی جانے والی تبدیلیوں” والے نو سال، "وہی جھکڑ آج بھی ہیں، مگر یہ دنیا اب نئی ہے”۔ جب چین اور امریکہ متفق ہوں تو دنیا محفوظ، اور جب لڑیں تو دنیا پریشان۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے طور پر، چین اور امریکہ کے باہمی تعامل کا انداز شمالی امریکہ کے جنگلات میں پائی جانے والی بھوری برچ اور فر کے درختوں جیسا ہے: دونوں زمین پر سورج کی روشنی کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، لیکن زیرِ زمین ان کی جڑیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں، ایک دوسرے پر منحصر ہیں، آپس میں غذائی اجزاء کا تبادلہ کرتے ہیں اور مل کر زندہ رہتے اور ترقی کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کو تلاش کرنا اور تعاون کی فہرست کو طویل کرنا ہی دونوں ممالک کے عوام بلکہ پوری دنیا کے عوام کے لیے فلاح و بہبود کی راہ ہے۔”یہ ایک اہم دورہ ہے، دونوں فریقوں نے مثبت اور تعمیری مکالمہ کیا ہے۔ امریکی عوام اور چینی عوام ایک دوسرے کی تعریف اور عزت کرتے ہیں، دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ امریکہ-چین تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کو دنیا کے لیے ایک خوبصورت مستقبل تشکیل دینے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔” ہر محفل میں سیدھی بات کرنے اور بے تکلفی سے رائے دینے والے ٹرمپ نے اس بار بیجنگ میں ان وزنی جملوں کو سنجیدگی سے پڑھ کر تقریر کرتے ہوئِے اپنی گہری خلوص اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سنجیدہ ہیں، اور اس سے چین-امریکہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں توقعات بڑھتی جا رہی ہیں۔ دنیا کو امید ہے کہ اس دورے کے ذریعے، دونوں فریق زیرو سم گیم کے تنگ نظریے سے بالا تر ہو کر تجارت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی نظم و نسق جیسے مخصوص شعبوں میں زیادہ وسیع اور حقیقی تعاون کر سکیں گے، اور موجودہ غیر مستحکم عالمی نظام کو قیمتی یقین دہانیوں سے نواز سکیں گے۔ بالآخر، رویوں کی تبدیلی اور قول و فعل میں تضاد صرف چھوٹی چالیں ہیں، پہاڑ کی طرح غیر متزلزل رہنا اور دنیا کی فکر کرنا ہی ایک بڑے ملک کا شیوہ ہے۔ چین یقیناً اپنی ہمیشہ کی طرح وعدہ پورا کرنے والی پالیسی کو جاری رکھے گا، اور دونوں ممالک کے تعلقات کے طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کرے گا۔ اسی دوران، چین کا اپنے معاملات کو سنبھالنے پر توجہ مرکوز رکھنے کا عزم تبدیل نہیں ہوگا، اصلاحات اور کھلے پن پر قائم رہنے اور ترقی کے مواقع بانٹنے کی اس کی خلوص نیت تبدیل نہیں ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے بیجنگ کی ان سڑکوں کے کنارے کھلے ہوئے گلاب، نہ تو کسی کی تعریف سے کھلتے ہیں اور نہ ہی کسی کی تنقید سے مرجھاتے ہیں، ان کی اپنی ایک پُر عزم زندگی کی رفتار اور استقلال ہے۔طوفان ابھی رکا نہیں ، آگے کا راستہ لازمی طور پر ہموار نہیں ہوگا، بس اگر بساط کو ٹھیک پکڑیں اور سمت میں انحراف نہ ہو، تو چین ۔امریکہ تعلقات کا یہ بڑا جہاز آخرکار طوفانوں سے گزر کر مشترکہ خوشحالی کے کنارے تک پہنچ جائے گا ۔آخر کار، چین اور امریکہ ملیں یا الگ رہیں، "یہ کوئی سوال نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے کسی جواب کی ضرورت ہے۔”

Comments (0)
Add Comment