نئی دہلی(پی این پی)بھارت کے ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کی کمپنی کو امریکا میں بڑے جرمانے کا سامنا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اڈانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں امریکی حکومت کو 27کروڑ 50لاکھ ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ رقم ایک تصفیاتی معاہدے کے تحت ادا کی جائے گی تاکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات نمٹائی جا سکیں۔بیان میں کہا گیا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے ایران سے متعلق پابندیوں کی 32ممکنہ خلاف ورزیوں پر اپنی ممکنہ سول ذمہ داری ختم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔امریکا حکام کے بقول اڈانی انٹرپرائزز نے نومبر 2023سے جون 2025کے درمیان مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)کی کئی کھیپیں ایران سے خریدی تھیں۔امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے ایرانی گیس کی یہ خریداری ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایران کی تیل و گیس کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔امریکی اداروں کی تحقیقات میں الزام لگایا گیا کہ اڈانی انٹرپرائزز کی بعض شپمنٹس کو تیسرے ممالک یا درمیانی کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیا گیا تاکہ ایران سے خریداری کو چھپایا جا سکے۔امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس تحقیقات کے دوران دوران عالمی شپنگ نیٹ ورکس، انشورنس دستاویزات اور مالیاتی لین دین کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔بھارت بزنس مین کی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ذرائع کے مطابق کمپنی نے تصفیہ اس لیے قبول کیا تاکہ طویل قانونی جنگ، ممکنہ تجارتی پابندیوں اور عالمی مالیاتی دبا سے بچا جا سکے۔امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ فوجداری سزا نہیں بلکہ سول تصفیہ ہے تاہم اس کے باوجود یہ معاملہ عالمی کاروباری حلقوں میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
امریکا کئی برسوں سے ایران کی تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل صنعت پر سخت معاشی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران اپنی توانائی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں اپنے اتحادی گروہوں اور عسکری پروگراموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ان پابندیوں کے تحت دنیا بھر کی کمپنیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر وہ ایرانی تیل، گیس یا متعلقہ مصنوعات کی خریدوفروخت میں ملوث پائی گئیں تو انہیں امریکی مالیاتی نظام، ڈالر لین دین اور امریکی منڈی تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔اسی وجہ سے بیشتر بین الاقوامی کمپنیاں ایران کے ساتھ براہِ راست کاروبار سے گریز کرتی ہیں تاہم بعض اوقات تیسرے ممالک، درمیانی تاجروں یا پیچیدہ شپنگ نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی مصنوعات عالمی منڈی تک پہنچتی رہی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب اڈانی گروپ عالمی تنازع کا شکار ہوا ہو۔ 2023 میں امریکی سرمایہ کاری تحقیقی ادارے ہنڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر مالی بے ضابطگیوں، شیئر قیمتوں میں مبینہ ہیرا پھیری اور قرضوں کے غیرشفاف استعمال کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد گروپ کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی آئی تھی۔اگرچہ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی، لیکن تازہ امریکی کارروائی نے ایک بار پھر گروپ کے بین الاقوامی کاروباری طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پی این پی