اعتصام الحق
روسی صدر ولادیمیر پوٹن چین کے صدر شی جن پھنگ کی دعوت پر انیس مئی کو دو روزہ دورے پر بیجنگ پہنچے ۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ صدر پوٹن کا پچیسواں دورہ چین ہے ۔صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں 20 مئی کی صبح اپنے ہم منصب کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا اور بعد ازاں دونوں صدور کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات،مختلف شعبوں میں تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور روس نے برابری، باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دیا ہے، جو اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کو طویل مدتی وژن کے ساتھ اعلیٰ معیار کے تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ قومی ترقی اور عالمی نظم و نسگ میں اصلاحات ممکن ہو سکیں۔ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال پر انہوں نے جنگ و امن کے اہم مرحلے میں چار نکاتی تجاویز پیش کیں تاکہ عالمی اتفاق، کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کو فروغ دیا جا سکے۔
ملاقات کے بعد دونوں سربراہانِ مملکت نے چین اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ہمسائیگی پر مبنی دوستانہ تعاون کو گہرا کرنے سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔اسی روز شی جن پھنگ اور ولادیمیر پوٹن نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق مختلف دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی مشترکہ طور پر شرکت کی۔اس سے قبل عظیم عوامی ہال کے باہر روسی صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔
چین اور روس کے تعلقات آج کی عالمی سیاست میں ایک منفرد اور مضبوط مثال کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ تعلقات نہ صرف اچھے انداز میں برقرار رہے بلکہ بتدریج مزید مستحکم اور ہمہ جہت بھی ہوئے ہیں۔ اس استحکام کی وجہ محض وقتی مفادات یا کسی خاص نظریے کی ہم آہنگی نہیں بلکہ ایک وسیع تر تاریخی، سماجی اور عالمی تناظر سے جڑی ہوئی ہے۔اگر اس تعلق کی بنیاد کو سمجھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ چین اور روس نے اپنے روابط کو وقت کے تقاضوں اور عوامی خواہشات کے مطابق ڈھالا ہے۔ دنیا میں سیاسی اتحاد اور نظریاتی وابستگیاں اکثر بدلتی رہتی ہیں، مگر وہ تعلقات زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں جو باہمی احترام، برابری اور مشترکہ مفاد پر قائم ہوں۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے چین اور روس کو ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں توازن اور خودمختاری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ انہوں نے کسی بھی مرحلے پر ایک دوسرے پر اپنی برتری مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ تعاون کو برابری کی بنیاد پر آگے بڑھایا۔ اس رویے نے نہ صرف اعتماد کو فروغ دیا بلکہ حساس قومی معاملات میں بھی ایک دوسرے کی حمایت کو یقینی بنایا۔
موجودہ عالمی حالات میں چین اور روس کا یہ تعلق ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے، اور وہ ہے بلاک سیاست سے دوری۔ دونوں ممالک نے واضح طور پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ان کا تعاون کسی تیسرے ملک کے خلاف نہ ہو۔ اس حکمت عملی نے انہیں سرد جنگ جیسے تصادم سے بچایا اور ایک آزاد و خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تعلقات کو کسی روایتی عسکری اتحاد کے بجائے ایک نئے طرز کے اشتراک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط بھی اس تعلق کی مضبوطی کا اہم ستون ہیں۔ سربراہانِ مملکت کے باقاعدہ تبادلے، حکومتی سطح پر مشترکہ کمیٹیاں، اور مختلف شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون نے اس شراکت داری کو عملی شکل دی ہے۔ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں جیسے شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے دونوں معیشتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
خاص طور پر تجارت کے میدان میں نمایاں پیش رفت دیکھنے کو ملتی ہے۔2025 میں دونوں کے درمیان تجارتی حجم 227.9 بلین یو ایس ڈالرز رہا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادی تعاون ان تعلقات کی بنیاد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں شراکت داری نے نہ صرف دونوں ممالک کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ عالمی منڈی میں بھی استحکام پیدا کیا ہے۔
عوامی سطح پر روابط بھی اس تعلق کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیمی، ثقافتی اور سیاحتی تبادلوں نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے۔ حالیہ برسوں میں سفری سہولتوں میں اضافہ اور ویزا پالیسیوں میں نرمی نے اس عمل کو مزید تیز کیا ہے، جس سے باہمی اعتماد اور سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی سطح پر بھی چین اور روس کا تعاون خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے پلیٹ فارمز پر قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کی آواز کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اشتراک ایک ایسے عالمی نظام کے قیام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو زیادہ متوازن اور کثیر القطبی ہو۔
چین اور روس کی شراکت داری عالمی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ بنیادی ڈھانچے، توانائی اور علاقائی روابط کے منصوبے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دیگر خطوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ اس تعاون کے ذریعے عالمی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے اور اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چین اور روس نے بڑے ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ طاقتور ممالک بھی بغیر کسی تصادم یا بالادستی کے جذبے کے، برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف دیگر ممالک کے لیے قابلِ تقلید ہے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔