بیجنگ (شِنہوا) چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر بلال لاشاری کی ہدایت کاری میں بننے والی پاکستان کی شاہکار بلاک بسٹر فلم "دی لیجنڈ آف مولا جٹ” 21 مئی سے چینی سینما گھروں کی زینت بن گئی ہے۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے مابین ثقافتی تبادلوں اور تعاون میں ایک شاندار باب کا اضافہ ہے۔
چین میں متعین پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے اس فلم کو دونوں ممالک کے ثقافتی رابطوں میں ایک "سنگ میل” قرار دیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ یہ فلم ہمارے لازوال اور دیرینہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے اور چینی شائقین کو پاکستانی فلموں کے حسن اور بھرپور ثقافت کا تجربہ کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ہماری فلمی صنعتوں کے مابین باہمی مفید تعاون کے جذبے کو اجاگر کرتی ہے جس سے مضبوط ثقافتی تبادلوں اور اشتراکِ عمل کی راہیں ہموار ہوں گی۔
حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کے مابین فلم کے شعبے میں کثرت سے روابط اور تعاون دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی فلم "پرواز ہے جنون” اور پاک چین مشترکہ پروڈکشن کے تحت بننے والی پہلی بڑی فلم "باٹی گرل” سمیت کئی فلمیں چینی سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی جا چکی ہیں جنہیں شائقین کی طرف سے بے پناہ پذیرائی ملی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے میڈیا اور فلمی صنعتوں کے مابین اشتراک اور مشترکہ منصوبوں کے لئے فریم ورک فراہم کرنے کی خاطر کئی مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے ہیں۔
پاکستانی سفیر کے مطابق "دی لیجنڈ آف مولا جٹ” کی چین میں ریلیز جون 2024 میں پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات اور چائنہ فلم ایڈمنسٹریشن کے مابین طے پانے والے مشترکہ فلم سازی کے معاہدے کے تسلسل میں ہوئی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد فلم سازوں کے مابین تبادلوں کو فروغ دینا اور ایسی مشترکہ پروڈکشنز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو دونوں ممالک کے شائقین کے دلوں کو چھو لیں۔
بیجنگ میں منعقدہ پریمیئر تقریب میں دونوں ممالک کے فلم سازوں نے مستقبل میں فلمی صنعت کے شعبے میں مزید گہرے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بلال لاشاری نے فلم کو چین میں متعارف کرانے پر اپنے چینی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چینی فلمیں دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں اور پاکستان میں بہت سے لوگ بروس لی کی فلموں سے بے حد متاثر اور مسحور تھے۔ ان تمام چینی فلموں خاص طور پر "ہیرو” کے موضوع پر بننے والی فلموں نے ان کی سوچ پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "میں چینی ناظرین کے ساتھ اس نظریے کو شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ غیرت، خاندان اور وہ دھرتی جس کے لئے لڑا جائے، اس کے لئے ڈٹ جانا ہی اصل چیز ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہی بات پاکستانی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے عوام یکساں اقدار کے امین ہیں۔
ان کی نظر میں پاکستان چینی فلم انڈسٹری سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور بدلے میں ایسی کہانیاں پیش کر سکتا ہے جو بالکل اچھوتی، روایتی اور حقیقی ہوں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کی فلمی صنعتوں کے مابین تعاون کے امکانات لامحدود ہیں۔
ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ "میرا خیال ہے کہ بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پر کام کیا جا سکتا ہے لیکن اگر ‘شاہراہِ ریشم’ پر مبنی کوئی خیالی یا فینٹیسی فلم بنائی جائے جس میں دونوں طرف کے کردار اپنی جدوجہد اور دو مختلف ثقافتوں کے ملاپ کو پیش کریں، تو یہ بہت دلچسپ ہوگا۔”
20 کروڑ سے زائد ٹیلی کام صارفین، 200 سے زائد ٹی وی چینلز اور جدید ترین سینما سکرینز کے ساتھ پاکستان نہ صرف اعلیٰ معیار کا مواد تیار کر رہا ہے بلکہ وہاں متنوع اور منفرد مواد کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ پاکستانی فلم ساز یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ مستقبل میں مزید بہترین چینی فلمیں پاکستانی سینما گھروں کی زینت بنیں گی۔
فلم کے بین الاقوامی ڈسٹری بیوٹر ندیم مانڈوی والا نے کہا کہ "تعاون کے امکانات بہت وسیع ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ چینی اینیمیٹڈ فلم "نی جا 2” پاکستان میں کافی مقبول ہو رہی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں مزید چینی فلمیں پاکستان متعارف کرائی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "خاص طور پر پاکستانی عوام ہیرو کے موضوعات پر مبنی فلموں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔”
بین الاقوامی ڈسٹری بیوٹر مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کمپنی کی چین میں نمائندہ ہاؤ یو جیاؤ نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید پاکستانی فلمیں چین میں متعارف کرائی جائیں اور مزید چینی فلمیں پاکستان لے جائی جائیں تاکہ پاک چین فلمی تبادلوں اور تعاون کا ایک نیا باب شروع ہو سکے۔
اس فلم نے بہت سے چینی شائقین کو پاکستان کے مقامی رسم و رواج اور روایات کا تجربہ کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ پریمیئر کے موقع پر کئی ناظرین نے فلم کے لئے اپنی پسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا۔
چائنہ منزو یونیورسٹی کی ایک طالبہ شانگ مینگ یوآن نے شِنہوا کو بتایا کہ "یہ پہلی بار ہے کہ میں سینما میں کوئی پاکستانی فلم دیکھنے آئی ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور ایک بالکل نیا تجربہ ملا۔” انہوں نے کہا کہ پاکستانی لوک ہیروز پر مبنی اس فلم نے انہیں پاکستانی جذبے جیسے خاندان اور انصاف کے لئے لڑنے کو محسوس کرنے کا موقع دیا جو کہ "بہت متاثر کن” تھا۔
چائنہ فلم گروپ کارپوریشن کے فلم امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ برانچ کے منیجر یانگ جیان نے کہا کہ "فلمیں عوامی رابطوں کو فروغ دینے اور تہذیبوں کے مابین تبادلوں اور باہم سیکھنے کے عمل کے لئے ایک پل کا کام کرتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ چین میں اس پاکستانی فلم کی کامیاب آمد پاک چین فلمی تعاون کی جانب ایک ٹھوس قدم ہے اور فلمی صنعت میں دونوں ممالک کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم فلم سازی، تکنیکی تبادلوں، ٹیلنٹ کی تربیت اور دیگر پہلوؤں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے منتظر ہیں تاکہ روشنی اور سائے کے اس پل کو مزید وسیع کیا جا سکے۔”