اپیک کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں حاصل شدہ نتائج اپیک کے ” چائینیز ائیر ” کو مضبوط کر سکتے ہیں، چینی میڈیا

بیجنگ : اپیک کے وزرائے تجارت کے اجلاس کا اختتام صوبہ جیانگ سو کے شہر سوچو میں ہوا۔ فریقین نے ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایک نئے سروس سیکٹر روڈ میپ پر مشتمل ‘1+1’ مخصوص نتائج پر اتفاق کیا، جس نے سال کے آخر میں ہونے والے اپیک رہنماؤں کی غیر رسمی کانفرنس کے لیے اہم اقتصادی و تجارتی کامیابیاں فراہم کیں۔ رواں سال اپیک کے ” چائینیز ائیر ” میں ‘کھلے پن، جدت اور تعاون’ کو تین اہم ترجیحات کے طور پر رکھا گیا ہے۔ سوچو میں ہونے والے وزرائے تجارت کے اجلاس کے دوران، چین کے نائب وزیراعظم حہ لی فنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایشیا پیسیفک فری ٹریڈ ایریا کو طویل مدتی ہدف کے طور پر رکھتے ہوئے علاقائی اقتصادی یکجہتی کے عمل کو لچکدار اور عملی طور پر آگے بڑھایا جائے؛ کثیر الجہتی تجارتی نظام کی مضبوط حفاظت کرتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کرنے کی حمایت کی جائے اور نئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بات چیت اور روابط کو مضبوط بناتے ہوئے نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون میں جدت لائی جائے ۔ وزرائَے تجارت کے اجلاس کے نتائج میں چینی تجاویز بھی شامل کی گئیں جو نہ صرف اپیک اقتصادی و تجارتی تعاون میں نئی توانائی شامل کرتی ہیں بلکہ چینی طرز کی جدید ترقیاتی کامیابیوں کے ذریعے ایشیا و بحرالکاہل اور عالمی معیشت کی ترقی کو فروغ دینے کی خواہش اور ذمہ داری کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔اس اجلاس کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ اپیک سروس سیکٹر کے لیے جدید، مسابقتی اور لچکدار روڈ میپ قائم ہو چکا ہے۔ تمام فریقوں نے متفقہ طور پر آٹھ اہم شعبوں میں تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خدمات کے شعبے میں متعلقہ پالیسیوں میں مستقل جدت اور اصلاحات کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا تاکہ کھلے پن اور پیش گوئی کے قابل سروس ٹریڈ اور سرمایہ کاری کا ماحول قائم کیا جا سکے ۔ نئے روڈ میپ میں اگلے 10 سال کے لیے ایشیا پیسیفک میں سروسز سیکٹر کی ترقی کا خاکہ تیار کیا گیا ہے ، جس کا مقصد سروسز کے شعبے کو اپیک کی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقعوں میں اضافے کے لیے ایک اہم قوت بنانا ہے ۔ اپیک کے ‘ چائنیز ائیر ‘ میں، چین ایشیا پیسیفک کی تمام معیشتوں کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹے گا اور باہمی فوائد حاصل کرے گا، تاکہ سال کے آخر میں چین کے شہر شینزین میں ہونے والی اپیک کے رہنماؤں کی غیر رسمی کانفرنس کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جائے اور ایشیا پیسیفک کمیونٹی کی تعمیر کے لیے مستقل توانائی فراہم کی جائے۔

Comments (0)
Add Comment