چین میں خوابوں کی تکمیل کے متلاشی پاکستانی کاروباریوں کی سرحد پار گرمجوش کہانیاں 

کونمنگ (شِنہوا) "پاکستانی چپل نرم تلووں، خوبصورت ڈیزائن اور بہترین آرام کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں!” سورج کی روشنی شیشے کی کھڑکیوں سے اندر آ کر رنگ برنگے جوتوں کے نفیس نقش و نگار پر پڑ رہی تھی۔ یون نان صوبے کے شہر کونمنگ کے گواندو ضلع میں ایک گودام کے اندر پاکستانی تاجر وانگ چھوان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو سٹریم کے ذریعے ہاتھ سے بنے پاکستانی جوتوں کی وسیع اقسام کو روانی سے فروغ دے رہے ہیں۔
کونمنگ جیسے خوشگوار موسم والے شہر میں دس سال سے مقیم وانگ چھوان اب ایک تجربہ کار مقامی شہری بن چکے ہیں۔ انہوں نے چین میں اپنی یونیورسٹی تعلیم مکمل کی، یہیں اپنا کاروبار شروع کیا، ایک چینی خاتون سے شادی کی اور مکمل طور پر چینی طرز زندگی اپنا لیا ہے۔
انہوں نے پہلے پاکستانی دستکاری اور فرنیچر کی فروخت کی کوشش کی اور بعد میں مارکیٹ کے جائزے کے بعد ہاتھ سے بنے مقبول پاکستانی  جوتوں پر توجہ مرکوز کر لی۔
گزشتہ دس برس میں انہوں نے چینی مارکیٹ کی توانائی اور گرمجوشی کو معاون پالیسیوں اور مقامی لوگوں کی مخلصانہ مدد کے ذریعے محسوس کیا ہے۔ وہ کونمنگ کو اپنا دوسرا وطن اور چینی لوگوں کو اپنے خاندان کی طرح سمجھتے ہیں۔
وانگ چھوان کے لئے چین میں رہنا صرف ایک پیشہ ورانہ فیصلہ نہیں بلکہ دل کی گہری وابستگی ہے۔ وہ چین کے کھانوں، مناظر اور مقامی روایات سے بے حد متاثر ہیں۔ وہ چین کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی اور چین کی ترقی کو مختصر ویڈیوز کے ذریعے شیئر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی چین کی حقیقی تصویر سے واقف ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ "بہت سے پاکستانی لوگ چین سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور چینی مارکیٹ میں بے پناہ امکانات دیکھتے ہیں۔” چین پاکستانی کاروباری افراد کے لئے ایک مثالی مقام بن چکا ہے، جن میں فرنیچر کے تاجر سعد بھی شامل ہیں۔
صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ایک فرنیچر فیکٹری پوری رفتار سے کام کر رہی تھی۔ 10 ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش سے ایک ماہ سے بھی کم وقت پہلے سعد چین بھیجے جانے والے نمائش کے سامان کی جانچ میں مصروف ہیں۔
سعد اور ان کے بھائی چین میں مختلف نمائشوں میں شرکت کے لئے بار بار سفر کرتے ہیں جبکہ ایک اور بھائی پاکستان میں فیکٹری سنبھالتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار 2013 میں کونمنگ میں ہونے والی افتتاحی چین-جنوبی ایشیا نمائش میں شرکت کی تھی اور تب سے اس کا ایک بھی سیشن نہیں چھوڑا۔
گزشتہ 12 برسوں میں انہوں نے نمائش کے پیمانے، شریک ممالک اور زائرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا ہے، ساتھ ہی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ ون سٹاپ سروسز اور رضاکارانہ مدد نے انہیں بڑی سہولت اور گرمجوشی فراہم کی ہے۔
موثر چینی لاجسٹکس بھی ان کے کاروباری سفر کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تیز اور آسان ترسیلی خدمات نے بھاری فرنیچر کو پورے چین میں منتقل کرنا اور سامان کو براہ راست گاہکوں کی دہلیز پر پہنچانا آسان بنا دیا ہے، جس سے وسیع چینی مارکیٹ ایک مربوط نظام کی صورت میں جڑ گئی ہے۔
وانگ چھوان اور سعد کی کہانیاں چین-پاکستان اقتصادی و تجارتی تعاون میں حصہ لینے والے بے شمار محنتی افراد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 25.24 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا اور چین کئی برسوں سے پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔
75 سال کی آزمائشوں اور مشکلات کے باوجود چین اور پاکستان کی دوستی عملی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہی ہے اور عام لوگوں کی زندگیوں میں گہرائی سے قدر کی جاتی ہے۔ کونمنگ کے لائیو سٹریمنگ کمروں سے لے کر کراچی کی فرنیچر ورکشاپس تک، ہاتھ سے بنے جوتے اور نفیس فرنیچر دونوں ممالک کے درمیان پہاڑوں اور سمندروں سے ماورا دیرپا دوستی کی زندہ و تابندہ علامتیں ہیں۔

Comments (0)
Add Comment