فیفا ورلڈکپ 2026 میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والے کھلاڑیوں کی مجرموں کی طرح تلاشی پر سوالات اٹھنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا آنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ ایئرپورٹ حکام کے تضحیک آمیز رویے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
سینیگال اور ازبکستان کی ٹیموں کے ساتھ ایئرپورٹ پر ہونے والے ناروا سلوک کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شائقین کی جانب سے امریکی حکام پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
ازبکستان کی ٹیم کی نیدرلینڈز کے خلاف دوستانہ میچ کے لیے آمد کے موقع پر سراغ رساں کتوں اور جدید سیکیورٹی آلات کے ذریعے تلاشی لی گئی۔
😳🐕REGISTRO SUPER ESTRICTO HASTA CON PERROS
Así fue el protocolo de seguridad con la Selección de Uzbekistán previo al amistoso contra Países Bajos en Estados Unidos.🇺🇿 pic.twitter.com/D1SzMEYZcP
— ESPN Centroamérica (@ESPN_CENAM) June 8, 2026
اسی طرح سینیگال کی قومی فٹبال ٹیم کی مبینہ سخت سیکیورٹی جانچ پڑتال کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی۔
ویڈیو میں سینیگال کے کھلاڑیوں کو ٹیم کی جرسیوں میں ہوائی اڈے کے رن وے پر اپنے سامان کے قریب کھڑا دیکھا جا سکتا ہے جہاں سیکیورٹی اہلکار ان کی جانچ پڑتال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو کے ایک حصے میں ایک کھلاڑی اپنے بازو پھیلائے کھڑا ہے جبکہ ایک اہلکار سیکیورٹی ڈیوائس کے ذریعے اس کی تلاشی لیتا نظر آتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی کھلاڑیوں کے ٹرمینل میں داخل ہونے سے قبل کی گئی۔
تاہم اس ویڈیو کے حوالے سے سینیگال فٹبال فیڈریشن، فیفا یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کھلاڑیوں کے ساتھ مجرموں کی طرح برتاؤ کو شائقین نے تذلیل آمیز رویہ قرار دے دیا۔
اس سے قبل عراقی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے بھی اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔
عراقی ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو ایئرپورٹ پر تقریباً سات گھنٹے تک روکے رکھا گیا۔ اس دوران ان کا موبائل فون بھی چیک کیا گیا، جس کے بعد انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
اس کے برعکس عراقی ٹیم کے آفیشل فوٹوگرافر طلال صلاح کو دس گھنٹے سے زائد وقت تک روکنے کے بعد امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر کے واپس بھیج دیا گیا۔
پی این پی