جاپان کی "دوبارہ عسکریت پسندی” کا ایک اور خطرناک اشارہ ، چینی میڈیا

بیجنگ :جاپان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے حال ہی میں اپنی جنرل کونسل کے اجلاس میں سکیورٹی سے متعلق تین اہم دستاویزات میں ترمیم کی سفارشات پر مبنی ایک مسودہ منظور کیا ہے، جسے حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ اقدام 2022 کی سکیورٹی دستاویزات میں دفاعی حکمتِ عملی کو "دفاع سے حملہ” کی سمت منتقل کرنے کے بعد جاپان کی سکیورٹی پالیسی میں ایک اور نمایاں اور جارحانہ تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔مجوزہ مسودے میں "قومی سرزمین کے دفاع” کو جواز بنا کر عسکری توسیع کی راہ ہموار کی گئی ہے، جبکہ اسلحے، دفاعی بجٹ اور فوجی تعیناتیوں سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی کی تجویز دی گئی ہے، جس سے جاپان کی فوجی تیاریوں اور عسکری توسیع کی رفتار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کی "صرف دفاعی حکمتِ عملی” کا اصول عملاً ختم ہو چکا ہے اور نام نہاد "نئی عسکریت پسندی” خطے اور دنیا کے لیے ایک حقیقی تشویش بنتی جا رہی ہے۔مسودہ واضح کرتا ہے کہ جاپان کی سکیورٹی حکمتِ عملی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ دفاعی سوچ بتدریج غیر فعال دفاع سے فعال حملے کی طرف منتقل ہو رہی ہے، فوجی صلاحیت مقامی ساحلی دفاع سے دور مار کارروائیوں تک پھیل رہی ہے، جبکہ اس کی تزویراتی ترجیحات علاقائی سلامتی سے بڑھ کر عالمی سطح پر مداخلت کی صلاحیت تک جا پہنچی ہیں۔فوجی اخراجات اور عسکری قوت میں عارضی اضافے کے بجائے اب فوجی توسیع کو طویل المدتی اور ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جاپان جنگ کے بعد قائم ہونے والے امن کے نظام سے بتدریج دور ہو رہا ہے۔بیرونی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، سلامتی کے بحران کا تاثر پیدا کرنا اور دفاعی ضرورت کے نام پر فوجی طاقت میں اضافہ کرنا ماضی کے جاپانی عسکریت پسند رجحانات سے مشابہت رکھتا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری کو گہری نظر رکھنی چاہیے۔جاپان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے منظور کردہ یہ نیا مسودہ جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی کی جانب پیش قدمی کا ایک اور خطرناک اشارہ ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس امر کو یقینی بنائے کہ جاپانی عسکریت پسندی دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔

Comments (0)
Add Comment