یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ متعدد شراکت داروں کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں صدر یورپی یونین کا کہنا تھا کہ اب ترجیح یہ ہے کہ تمام فریق اس معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جانا چاہیے۔آزادانہ بحری آمدورفت بحال ہونی چاہیے اور اس پر کوئی اضافی محصولات یا رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔یہ علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور سلامتی سے متعلق وسیع تر مذاکرات کے لیے بھی راہ ہموار کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگراموں اور خطے میں اس کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے۔اور یقیناً جب تک لبنان بدامنی اور تباہی کی لپیٹ میں ہے، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
ر ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا کہ یورپ ایک بار پھر تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور ایک حقیقی جنگ بندی پر عمل درآمد کریں۔
ایویان میں جی 7 کے رہنما خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر شراکت داروں سے ملاقات کریں گے۔ یورپ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ بحران ایک واضح سبق بھی دیتا ہے۔
ایک بار پھر توانائی پر انحصار کو سیاسی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
ہمیں اپنی توانائی کی ترسیل کے راستوں میں تنوع پیدا کرنا ہوگا اور متبادل برآمدی راہداریوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ آبنائے ہرمز جیسے محدود گزرگاہی راستے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ایویان میں ہم ان امور سمیت دیگر اہم موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
https://x.com/vonderleyen/status/2066398099174531082?s=20