چین پاک دوستی  نے خطے کو جنگ سے بچالیا

 

 

اعتصام الحق

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے تک پہنچنے کی تصدیق  کر دی  ہے ۔ دنیا کی توجہ فوری طور پر اس معاہدے کی شرائط پر مرکوز ہو  گی   لیکن اس پیش رفت کی اصل کہانی صرف چند دنوں یا چند ملاقاتوں کی نہیں، بلکہ کئی ماہ پر محیط ایک ایسے سفارتی عمل کی ہے جس میں چین، پاکستان کی دوستی اور شراکت داری نے ایک بڑے علاقائی تصادم کو روکاہے۔

 

اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی۔ خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے تناؤ، آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ایسے ماحول میں چین نے ابتدا ہی سے زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

 

مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا۔ اگرچہ اس دورے کا بنیادی ایجنڈا اقتصادی اور تجارتی معاملات تھے، لیکن ایران کی صورتحال بھی پس منظر میں ایک اہم موضوع رہی۔ چینی قیادت نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ بیجنگ اس دوران تہران، اسلام آباد اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے تھا۔چینی صدر نے مشرق وسطی میں امن کے قیام کے لیے جن چار نکات کو پیش کیا اس  سے دنیا کا کوئی بھی امن پسند ملک انکار نہیں کر سکتا ۔

 

اسی دوران پاکستان نے بھی ایک متحرک سفارتی کردار ادا کرنا شروع کیا۔ مئی کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر دکھائی دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس عرصے میں اہم سفارتی مشاورت کا حصہ رہے۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران صرف دوطرفہ تعلقات ہی زیر بحث نہیں آئے بلکہ ایران کی صورتحال اور خطے میں امن کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

 

چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مشاورت میں یہ احساس مشترک تھا کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک نے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

 

اس کے بعد سفارت کاری کا مرکز کسی حد تک تہران منتقل ہو گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں جن میں علاقائی سلامتی، کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی راستے کو کھلا رکھنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہی دنوں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایرانی حکام کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ بظاہر یہ الگ الگ ملاقاتیں تھیں، لیکن درحقیقت یہ ایک وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ تھیں جس کا مقصد فریقین کے درمیان اعتماد سازی تھا۔

 

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی مسلسل متحرک رہے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستانی قیادت کے ساتھ رابطے رکھے بلکہ چین کے ساتھ بھی قریبی مشاورت جاری رکھی۔ مختلف مراحل پر بیجنگ، اسلام آباد اور تہران کے درمیان ٹیلیفونک رابطے ہوتے رہے۔ ان رابطوں کا مقصد صرف پیغامات کی ترسیل نہیں تھا بلکہ مذاکرات کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جس میں فریقین بغیر دباؤ کے بات چیت کر سکیں۔

 

جون کے آغاز تک سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ چکی تھی۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا جبکہ چین مسلسل سیاسی حمایت فراہم کرتا رہا۔ اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک اہم بیان میں کہا:

“Peace has never been this close as it is now.”

یہ بیان اس وقت آیا جب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے تھے۔

اور  اب بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے کہ “The Deal with the Islamic Republic of Iran is now complete. Congratulations to all!”

اس اعلان کے فوراً بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی تصدیق کی:

“Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED.”

یہ محض ایک معاہدے کا اعلان نہیں تھا بلکہ کئی ماہ کی خاموش سفارت کاری کا حاصل تھا۔

 

اگر اس پوری پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ چین نے ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر مذاکراتی ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جبکہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کا پل بننے کی کوشش کی۔ تہران، اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان مسلسل مشاورت نے ایسے وقت میں مکالمے کا راستہ کھلا رکھا جب جنگ کے امکانات سب سے زیادہ دکھائی دے رہے تھے۔

 

یہ کہنا شاید قبل از وقت ہوگا کہ خطے کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق کئی معاملات اب بھی باقی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس خطے کو چند ہفتے پہلے جنگ کے دہانے پر کھڑا تصور کیا جا رہا تھا، آج وہ مذاکرات اور مفاہمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

 

بین الاقوامی سیاست میں اکثر کامیابی کا مطلب مکمل فتح نہیں بلکہ بحران کو ٹال دینا ہوتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت بھی شاید اسی نوعیت کی کامیابی ہے، اور اس کامیابی کی داستان میں بیجنگ اور  اسلام آباد  نے  تنازع کے براہ راست فریق نہ ہونے پر بھی جس شاندار انداز میں سفارتکاری کو انجام دیا اس نے اس خطے اور دنیا کو ایک بڑی تباہی اور جنگ سے بالآخر بچالیا ۔

Comments (0)
Add Comment