امریکہ اور ایران کے معاہدےکے 14 نکات کی تفصیل جاری

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) واشنگٹن/تہران (نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اہم امن معاہدے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے میڈیا بریفنگ کے دوران معاہدے کے بنیادی نکات سے صحافیوں کو آگاہ کیا گیا، تاہم اس معاہدے کی سرکاری تحریری دستاویز ابھی عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے جنگی کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات میں بہتری کے لیے ایک مفاہمتی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی تجارت کے لیے فعال بنائے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرے گا۔ جوہری پروگرام سے متعلق مستقل معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔

معاہدے کی ابتدائی شقوں میں خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔ لبنان سمیت خطے کے مختلف تنازعات میں بھی جنگ بندی کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، سیاسی نظام اور جغرافیائی حدود کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب برتیں گے۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے اندر مستقل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات مکمل کیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی اور تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کرے گا۔ منصوبے کے مطابق ایک ماہ کے اندر بحری تجارت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کیا جائے گا، جبکہ امریکی افواج کی خطے سے واپسی کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کو محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ جنگ کے دوران پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور بارودی خطرات کو ختم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ایک بڑے مالیاتی پروگرام پر کام کریں گے، جس کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح امریکا نے ایران پر عائد مختلف معاشی اور سیاسی پابندیوں کے خاتمے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی اداروں اور امریکی سطح پر نافذ پابندیوں کے خاتمے کا طریقہ کار آئندہ مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔

جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخائر کے بارے میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق مستقل معاہدہ طے ہونے تک ایران اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ سطح تک محدود رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد کرنے یا اضافی فوجی تعیناتی سے گریز کرے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ ایران کو تیل کی فروخت، بینکنگ، انشورنس اور شپنگ سے متعلق عارضی سہولیات فراہم کرے گا تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایران کے منجمد اثاثوں اور مالی وسائل کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی جو تمام شقوں پر پیش رفت کا جائزہ لے گی اور دونوں فریقوں کی ذمہ داریوں کی نگرانی کرے گی۔

دستاویز کے مطابق جنگ بندی، تیل کی برآمدات، پابندیوں میں نرمی اور مالی اثاثوں کی بحالی جیسے ابتدائی اقدامات کے بعد مستقل امن معاہدے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

معاہدے کی آخری شق میں کہا گیا ہے کہ مستقبل کے مستقل امن معاہدے کو عالمی سطح پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خصوصی قرارداد منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ طے شدہ شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پی این پی