ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی کو الجزائر کے خلاف میچ میں ریڈکارڈ نہ ملنے پر ایونٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔
ایک جانب شائقین نے ورلڈکپ کو ہی فکسڈ قرار دینا شروع کردیا تو دوسری جانب تجزیہ کاروں نے بھی ریفری کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
ای ایس پی این کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر اپنا بوٹ رکھ کر گرانے پر میسی کو 100 فیصد ریڈ کارڈ ملنا چاہیے تھا۔
"It’s 100% a red card for Lionel Messi. It should’ve been.”
Ale Moreno and Nedum Onuoha react to Messi’s challenge against Algeria’s Aïssa Mandi. pic.twitter.com/0h2dMLYk4l
— ESPN FC (@ESPNFC) June 17, 2026
ری پلے دیکھنے کے بعد کئی مبصرین اور شائقین کا خیال تھا کہ اس حرکت پر سخت سزا دی جا سکتی تھی تاہم پولینڈ کے ریفری سزیمون نے نہ کارڈ دکھایا اور نہ ہی وی اے آرکی جانب سے کوئی واضح مداخلت سامنے آئی۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد شائقین نے شدید ردعمل دیا۔
کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ کوئی اور کھلاڑی ہوتا تو فوراً ریڈ کارڈ مل جاتا لیکن میسی کو بچایا جا رہا ہے، فیفا چاہتا ہے کہ میسی اور رونالڈو کا بڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے۔
واضح رہے کہ اس میچ میں میسی نے اپنی پہلی ورلڈکپ ہیٹ کرکے ٹیم کو 0-3 سے فتح دلوانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پی این پی