مالی بجٹ 2026-27میں سوشل میڈیا انفلوئنسر ٹیکس، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا پہلے پرکشش مراعات متعارف کرانے کا مطالبہ

اسلام آباد:اا حکومت سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی کمائی پر ٹیکس کٹوتی سے پہلے پرکشش مراعات کا اعلان کرے، اقلیتی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا سوشل میڈیا آمدنی پر پانچ فیصد ٹیکس متعارف کرانے پر واضح موقف سامنے آگیا۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئےڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت ابھی ابتدائی ترقی کے مراحل میں ہے اور ایسے وقت میں اضافی ٹیکس نوجوان کنٹنٹ کریئیٹرز کی حوصلہ شکنی کا باعث ہےجو محدود وسائل میں رہتے ہوئے بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے اپنی مدد آپ کے تحت انٹرنیٹ پر اپنا روزگار تلاش کررہے ہیں ۔ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت کو منظم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے،دنیا کے کئی ممالک میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو باقاعدہ ٹیکس دہندگان تصور کیا جاتا ہے، امریکہ میں یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کنٹنٹ کرئیٹرز اپنی کمرشل آمدنی پر وفاقی اور ریاستی ٹیکس ادا کرتے ہیں، مختلف ممالک میں ڈیجیٹل کریئیٹرز کی آمدنی ٹیکس کے دائرے میں شامل ہے،تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں صرف ٹیکس وصول نہیں کرتیں بلکہ ٹیکس دہندگان کو مختلف سہولتیں بھی فراہم کرتی ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں آن لائن کریئیٹرز کو اپنی ویڈیو پروڈکشن، اسٹوڈیو کرایہ، کیمرہ آلات، انٹرنیٹ اخراجات، سفری اخراجات اور دیگر کاروباری مصارف کو ٹیکس میں قابل کٹوتی ٹیکس اخراجات کے طور پر ظاہر کر نے کی اجازت ہے، کئی ممالک میں حکومتیں ڈیجیٹل کاروبار کیلئے آسان رجسٹریشن، آسان شرائط پرکم شرح سود پر قرضہ، ٹیکنالوجی گرانٹس، اسٹارٹ اپ فنڈنگ، پوڈکاسٹ اسٹوڈیو سیٹ اپ اور ٹریننگ پروگرام بھی فراہم کرتی ہیں، متعدد ممالک میں کانٹینٹ کریئیٹرز کیلئے جدید اسٹوڈیوز، تخلیقی مراکز اور حکومتی معاونت کے خصوصی پروگرام موجود ہیں، بعض یورپی ممالک میں ٹیکس نظام کا حصہ بننے والے ڈیجیٹل تخلیق کاروں کو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور پنشن پروگراموں تک رسائی بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اعتراف کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز، وی لاگرز، یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے اور بیرون ملک سے امریکی ڈالرز کی صورت میں کمائی میں اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو غیرضروری طور پر ٹیکس شکنجے میں جکڑا گیا تو وہ اپنی آمدنی بیرون ملک ورچوئل بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹ یا غیر ملکی مالیاتی پلیٹ فارمز میں رکھنے کو ترجیح دے سکتے ہیں، ایسی صورت حال میں ایک طرف حکومت ممکنہ ٹیکس محصولات کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گی اور دوسری طرف وہ قیمتی زرمبادلہ بھی ملک کے مالیاتی نظام میں داخل نہیں ہوگا جو اِس وقت بذریعہ پاکستانی بینک آرہا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے واضح موقف اپنایا کہ سخت ٹیکس قوانین متعارف کرانے سے پہلے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کیلئے پرکشش مراعات کا اعلان بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے نوجوان نہ صرف ڈیجیٹل شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھرپورمظاہرہ کرسکیں بلکہ اپنی ڈیجیٹل آمدنی کوپاکستان منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکارنہ ہوں۔

Comments (0)
Add Comment