اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیدرلینڈز میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک قدیم رومی تختی ملی ہے
جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پر ایسے جادوئی الفاظ اور منتر درج ہیں جو دیوتاؤں اور ماورائی طاقتوں کو پکارنے اور دشمنوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔یہ نایاب نوادرات رومی سلطنت کے قدیم صوبے لوئر جرمینیا کے ایک آثارِ قدیمہ کے مقام سے دریافت ہوئی، جو موجودہ دور میں نیدرلینڈز کی میونسپلٹی ہِیرلین میں واقع ہے۔تقریباً 9.3 سینٹی میٹر لمبی اور 4.8 سینٹی میٹر چوڑی اس تختی پر تحریر کندہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر لکھی گئی عبارت لاطینی زبان کے بجائے قدیم یونانی زبان میں تحریر کی گئی ہے، جبکہ اس کا طرزِ تحریر مصری روایات سے مشابہت رکھتا ہے۔انسٹیٹیوٹ آف پیپیرولوجی کے ماہرین نے اس تحریر کا تفصیلی جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ عبارت میں تین مختلف اقسام کے حروف اور علامات استعمال کی گئی ہیں، جو اسے مزید منفرد بناتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تختیاں عموماً سیسے سے تیار کی جاتی تھیں۔
قدیم زمانے میں سیسے کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ یہ آسانی سے ڈھل جاتا تھا اور اس کے بارے میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ اس میں لوگوں یا اشیا کو متاثر کرنے اور ان پر روحانی یا جادوئی اثر ڈالنے کی خاص طاقت موجود ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قدیم رومی معاشرے کے مذہبی عقائد، جادوئی رسومات اور روحانی تصورات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پی این پی