شی جن پھنگ کی اپنے والد شی چونگ شون سے گہری عقیدت

بیجنگ :(چائنا ڈیسک) شی جن پھنگ کے والد شی چونگ شون نے ان کی شخصیت اور طرزِ فکر پر گہرا اثر چھوڑا۔دونوں نے کسان کی حیثیت سے بھی زندگی گزاری اور کھیتی باڑی کے کاموں میں ایسی مہارت دکھائی کہ دیہی باشندے محبت سے انہیں "کھیتی باڑی کے ماہر” کہا کرتے تھے۔

دونوں ہی اکثر عوام کے درمیان جاتے، نچلی سطح کے علاقوں کا دورہ کرتے اور زمینی حقائق جاننے کے لیے براہِ راست لوگوں سے رابطہ رکھتے تھے۔ کئی مواقع پر وہ پائینچے چڑھا کر بارش میں بھیگتے ہوئے مختلف علاقوں کا جائزہ لیتے اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔ان دونوں شخصیات کے دلوں میں ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے "عوام کی خدمت” کو اپنی زندگی کا نصب العین، بنیادی نظریہ اور عہد سمجھا اور ہمیشہ اسی مقصد کے لیے خود کو وقف رکھا۔1969ء کے آغاز میں، ابھی شی جن پھنگ کی عمر 16 برس سے بھی کم تھی کہ انہوں نے رضا کارانہ طور پر صوبہ شانشی کے دیہی علاقے میں جا کر کام کرنے کے لیے درخواست دی۔ان برسوں کے دوران انہوں نے کھیتی باڑی سمیت دیگر مشقت طلب فرائض انجام دیے۔ شی جن پھنگ نے لیانگ جیا حہ گاؤں کے دیہی باشندوں کے ساتھ رہائش اختیار کی اور ان ہی کے ساتھ مل کر محنت و مشقت کی۔شی جن پھنگ کہا کرتے ہیں کہ "میرے والد کسان تھے اور کسان ہی کی حیثیت سے انقلابی جدوجہد کے راستے پر گامزن ہوئے تھے، جبکہ میں خود بھی سات سال تک کسان رہا ہوں۔” کسانوں کی محنت اور مشکلات کو قریب سے دیکھنے کے بعد، جب 22 سال کی عمر میں انہوں نے اس علاقے کو چھوڑا تو ان کے ذہن میں ایک واضح مقصد جنم لے چکا تھا "عوام کے لیے عملی کام کرنا۔”شی جن پھنگ کسانوں اور عام عوام، خصوصاً دیہی آبادی، کے لیے ایک گہرا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ دل کی گہرائیوں سے دیہی باشندوں کو اپنا خاندان اور اپنے عزیز سمجھتے ہیں اور ہمیشہ ان کی مدد و معاونت کو اپنی ذمہ داری قرار دیتے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں "میں جہاں بھی جاتا ہوں، وہاں دیہات ضرور دیکھتا ہوں۔”کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارویں قومی کانگریس کے بعد سے شی جن پھنگ نے انسداد غربت کے امور کے سلسلے میں 50 سے زائد بار مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے 14 ایسے بڑے اور پسماندہ علاقوں کا معائنہ کیا جہاں غربت سب سے زیادہ تھی۔انہوں نے عوام کو غربت سے نکال کر خوشحال زندگی کی جانب لے جانے کے لیے عملی قیادت فراہم کی اور "کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے” کے عزم اور وعدے پر ثابت قدمی سے عمل کیا۔شی چونگ شون نے سرکاری امور کی انجام دہی کے حوالے سے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ "چاہے تم کتنے ہی بڑے عہدے پر پہنچ جاؤ، عوام کی خلوص کے ساتھ خدمت کرنا اور ان کے بارے میں دل سے سوچنا کبھی نہ بھولنا۔ عوام سے رابطہ برقرار رکھنا اور ان کے قریب رہنا۔”شی چونگ شون کا عمر بھر یہ اصول رہا کہ سچائی عوام کے درمیان جا کر تلاش کرنی چاہیے ، جبکہ بنیادی سطح، عوام اور زمینی حقائق تک رسائی ، شی جن پھنگ کے عملی تحقیقاتی طریقہ کار کی بنیاد رہی ہے۔شی چونگ شون اور شی جن پھنگ، اگرچہ مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن دونوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے یکساں بے لوث جذبے اور بھرپور عزم کا مظاہرہ کیا۔شی جن پھنگ اپنے والد کے اس جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی اور عوام کے لیے خدمات انجام دیں۔ شی جن پھنگ کہتے ہیں کہ وہ والد کے عوام دوست جذبے سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ والد کی سالگرہ کے موقع پر لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے تحریر کیا کہ "آپ جاں فشانی سے خاموشی کے ساتھ چینی عوام کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ یہی چیز مجھے بھی ترغیب دیتی ہے کہ اپنی پوری زندگی عوام کی خدمت اور اپنے عظیم وطن چین اور اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے لیے وقف کر دوں۔”2012ء میں شی جن پھنگ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ اپنے پہلے عوامی خطاب میں انہوں نے یہ تاریخی عہد کیا کہ "عوام کی بہتر زندگی کی خواہش ہی ہماری جدوجہد کا مقصد ہے۔”عوامی رہنما سے عوام کے خدمت گزار تک، شی چونگ شون اور شی جن پھنگ کی دو نسلوں نے اپنے اپنے عہد کے عملی کارناموں کے ذریعے اس اصول کو زندہ مثال بنا دیا کہ حکمرانی کا اصل مقصد عوام کی خدمت ہے، اور تمام پارٹی ارکان کے لیے عوام پر مرکوز طرزِ فکر کا ایک روشن معیار قائم کیا۔

Comments (0)
Add Comment