ایف بی آر کو آؤٹ سورس کیا جائے، ناصر حیات مگوں


کراچی:

ایف پی سی سی آئی کے دو سابق صدور نے ایف بی آرکو آؤٹ سورس کرنے اور ٹیکس سسٹم کوآرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ 

بزنس مین پینل کے تحت وفاقی بجٹ اور پاکستان کی معیشت پر اسکے اثرات کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ناصر حیات مگوں نے کہاکہ ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کے بجائے ایف بی آرکوآؤٹ سورس کیاجائے۔ 

ایف بی آر میں 36ہزارکی افرادی قوت میں 15ہزار افرادصرف نوٹسز نکالنے پر معمور ہیں، پاکستان میں لوگ نہیں سسٹم خراب ہے،حکومت ٹیکس سسٹم ٹھیک کرے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے کرے۔

حکومت نے چوری کاسسٹم خودرکھاہواہے،وزیرِخزانہ خود بینکر ہے،قرضوں کی بنیاد پر معاشی استحکام کے دعوے کرتے ہیں،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 853ارب روپے جاری کرکے لوگوں کو بھکاری بنایاجارہاہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے 50فیصد لوگوں کوغریب کرکے استحکام حاصل کرلیاہے، آئی ایم ایف نے تین سال میں غربت کی شرح 25فیصدسے 50فیصد کردی، اس سے اچھا تھاملک ڈیفالٹ کر جاتا توسب کام پر لگ جاتے۔

ایف پی سی سی آئی کے سابق صدرذکریا عثمان نے کہاکہ ایف بی آر تاجر برادری کے نمائندوں کے خطوط کوڑے دان میں پھینک دیتاہے،ٹیکسٹائل کی صنعت 60فیصد درآمدات کی بنیاد پرچلتی ہے،درآمدات کے متبادل انڈسٹری نہیں ہوگی تب تک تجارتی خسارہ کم نہیں ہوگا۔

کمرشل بینک صنعت کوقرض دینے کی بجائے حکومت کومحفوظ قرضے فراہم کرتے ہیں اور حکومت کی 50فیصد فنانسنگ بینکوں سے ہوتی ہے، یعنی 50 فیصد بجٹ سودکی ادائیگیوں میں چلاجاتاہے، حکومت 5 سال کی طویل مدتی پالیسی،سیکیورٹی اور امپورٹ کے متبادل انڈسٹری دے،صنعت لگ جائیگی، جب تک صنعت نہیں لگے گی،روزگار نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں مقامی سرمایہ کاری نہیں ہوگی اسوقت تک بیرونی بھی نہیں ہوگی، بلندٹیکس کی شرح سے پیداواری شعبہ نہیں چل سکتا، سرکار خودآئی ایم ایف کو چھوڑنا نہیں چاہتی، عالمی سطح پر پاکستان کی اچھی پوزیشن کوکیش کیاجائے، ترسیلاتِ زرکیلیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باہر نہ بھیجاجائے۔

بی ایم پی تھنک تھینک کے سربراہ انجنیئر ایم اے جبارنے کہاکہ وفاقی بجٹ میں صنعت کے فروغ کیلیے کوئی مثبت پیشرفت نظر نہیں آئی، ہمارامطالبہ ہے کہ صنعتی ترقی کیلیے طویل مدتی پالیسیاں نافذ کی جائیں۔ سابق صدرکراچی چیمبرشارق وہرہ نے کہاکہ ٹیکس کی بلند شرح نے ملکی معیشت کو مفلوج کردیاہے، پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلیے ہمیں اس ملک میں سرمایہ کاری کرناہوگی۔



پی این پی

latest news
Comments (0)
Add Comment