بیجنگ :(چائنا ڈیسک )چین کے سرکاری زرعی اخبار ” روزنامہ کسان” نے خبر شائع کی کہ ملک بھر میں موسمِ گرما کی فصلوں کی وسیع پیمانے پر مشینی کٹائی کا عمل مکمل ہوچکا ہے، بھرپور فصل یقینی ہے اور پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے سال کی پہلی فصل محفوظ طریقے سےگوداموں میں پہنچ چکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین کے مرکزی میڈیا کی جانب سے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی وسیع اور ہمہ جہت کوریج بھی اختتام کو پہنچی، جو بظا ہر "ہر سال کی طرح” معمول کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔مغربی میڈیا کے مبصرین اکثر اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ عموماً توجہ حاصل کرنے کے لیے، تنازعات اور سنسنی خیز موضوعات کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ اناج کی کٹائی جیسی معمول کی خبریں، جس میں کوئی سنسنی نہیں ہوتی، مغربی مرکزی میڈیا کی خبروں کا حصہ نہیں بن پاتیں۔ اس کے برعکس چینی میڈیا گزشتہ کئی دہائیوں سے موسمِ گرما اور خزاں کے دوران فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے اہم مواقعوں پر صفحۂ اول، خصوصی کالموں اور پرائم ٹائم نشریات کے ذریعے پیداواری اور کٹائی کے عمل کے ہر مرحلے کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بظاہر غیر معمولی، مستقل کوریج محض تشہیر نہیں بلکہ قومی بقاء اور ترقی کی بنیادوں کو غیر معمولی اہمیت دینے کا مظہر ہے۔ یہ چین کے اس ” بنیادی تحفظی طرزِ فکر”کا واضح اظہار ہے جو چین کی اس گہری روایت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور صورتحال پر مکمل طور پر اس کے قابو میں ہے۔چینی عوام کے نزدیک غذائی تحفظ ریاستی استحکام اور قومی ترقی کے لیے اولین ترجیح ہے اور یہی پائیدار ترقی کو برقرار رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ چین جانتا ہے کہ کسی بڑی طاقت کی پائیدار ترقی مضبوط سلامتی کے بغیر ممکن نہیں۔ مغربی دنیا کا یہ تصور رہا ہے کہ "عظیم طاقتوں کا عروج اتحاد، بلاک کی سیاست اور مقابلہ آرائی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے”، لیکن چین نے ایک منفرد راستہ اختیار کیا ہے۔ مغربی طاقتیں اتحادی بلاک، مفادات کے باہمی جال اور مقابلہ بازی پر انحصار کرتی ہیں اور اپنی سلامتی کو اتحادی نظام اور علاقائی بالادستی سے وابستہ رکھتی ہیں جبکہ چین ” اتحاد نہیں، مگر شراکت داری” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی گروہ بندی اور محاذ آرائی سے گریز کرتا ہے۔ اس کی بنیادی سوچ، قومی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے تمام ذرائع کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے ۔ چینی میڈیا کی جانب سے موسمِ گرما اور خزاں کی فصلوں کی بوائی اور کٹائی کی اس قدر بڑے پیمانے پر کوریج کی وجہ یہی ہے کہ فیصلہ ساز اور میڈیا دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ 1.4 بلین عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنا قومی ترقی کی ہر حکمتِ عملی کی غیر متزلزل بنیاد ہے، چونکہ "استحکام” بہت اہم ہے۔ اس لیے اسے ہر سال، اور ہر موسم میں یقینی بنایا جاتا ہے۔”استحکام” کے الفاظ کے پیچھے وہی بنیادی تحفظ کی سوچ پنہاں ہے جو مغرب کی سمجھ میں نہیں آرہی: سبھی دوست تو ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن قومی سلامتی کسی کی زبانی یقین دہانی پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ چین "اتحادیوں پر انحصار کر کے طاقتور بننے” کے بجائے اپنی بقا، ترقی اور سلامتی کی تمام شرائط کو اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔ چین کی یہ منطق مختلف شعبوں میں نظر آتی ہے، توانائی کے شعبے میں، چین شمسی، ہوائی اور آبی بجلی کے قابلِ استعمال نصب شدہ صلاحیت کے اعتبار سے دنیا میں سرِ فہرست ہے؛ اور قابل تجدید توانائی کے میدان میں خود انحصاری کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو رہا ہے۔صنعتی شعبے میں چین دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس اقوامِ متحدہ کی صنعتی درجہ بندی کے مطابق تمام بڑے، درمیانے اور چھوٹے صنعتی شعبے موجود ہیں، جس کے نتیجے میں اس نے دنیا کا مکمل ترین صنعتی نظام تعمیر کر لیا ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں،بیرونی پابندیوں اور رکاوٹوں نے چین کی خود انحصاری کی رفتار مزید تیز کر دی۔ مشہور چینی مواصلاتی کمپنی کا جدید چپس پر مبنی آلات کی تیاری، سیمی کنڈکٹر ساز ادارے کی جدید ترین مصنوعات، بے ڈو سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کی تکمیل اور کوانٹم مواصلات میں پیٹنٹس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس کی مثالیں ہیں… مغرب نے سپلائی روک کر چین کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ چین نے خود کفیل صنعتی اور تکنیکی نظام کی تشکیل کو مزید تیز کر دیا۔غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی یہی سوچ نمایاں ہے۔ اس وقت چین میں اناج کی خود انحصاری پچانوے فیصد سے زائد ہے، جبکہ چاول اور گندم جیسی بنیادی غذائی اجناس میں خود انحصاری سو فیصد ہے۔ زرعی کاشت، کٹائی اور پیداوار کے مجموعی مشینی عمل کی شرح پچھتر فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ قابلِ کاشت زمین کے تحفظ، زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، مقامی بیجوں کی تیاری اور بین العلاقائی مشینی نظام کے قیام کے ذریعے چین نے غذائی تحفظ کا ایک مکمل اور خود انحصار نظام تشکیل دیا ہے۔یہی چین کے نئے غذائی تحفظ کے تصور کا بنیادی نکتہ ہے: بنیادی اناج میں خود کفالت اور بنیادی غذائی اجناس کا مکمل تحفظ” یعنی اندرونی پیداوار اور فراہمی کے استحکام کے ذریعے بیرونی دنیا کی غیر یقینی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کرنا۔ اگر ان خبروں کو دوبارہ دیکھا جائے جنہیں مغربی میڈیا اکثر "خبر کی حیثیت کے قابل نہیں” سمجھتا، تو دراصل یہ چین کے قومی فلسفۂ حیات کا اظہار ہیں۔ چین نہ تو دوسروں کی خیر سگالی پر انحصار کرتا ہے اور نہ ہی یہ فر ض کرتا ہے کہ عالمی سپلائی چین ہمیشہ بلارکاوٹ چلتی رہے گی؛ شروعات ہی سے چین نے تیاری کر رکھی ہے کہ تنہا بھی کسی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی پُر سکون مگر مضبوط ترقیاتی انداز مغرب کے لیے سخت مقابلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر رہا ہے، جبکہ دنیا بتدریج چین کی اس عظیم قومی سوچ کو سمجھنے لگی ہے۔نئی فصل گوداموں میں پہنچ چکی ہے،اور اب موسمِ گرما کی بوائی اور نگہداشت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ "روزنامہ کسان” نے اپنی مزکورہ رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ: "جب زمین میں ایک بار پھر بیج پھوٹنے کو تیار ہوتے ہیں، تو فصلِ نو ایک نئے نقطۂ آغاز میں بدل جاتی ہے۔ پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے نئے مرحلے میں ، چین کا اناج ہی وہ سب سے پختہ بنیاد ہوگی جس پر یہ عظیم قوم آگے بڑھے گی۔”گندم کی سنہری لہریں ہر سال اسی طرح لہراتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپی مستقل توجہ اور نگہداشت دراصل چین کی ترقی کا سب سے سادہ اور گہرا راز ہے، ” بنیادی تحفظ کی سوچ اور خود انحصاری کا عزم”۔