شک کا فائدہ؛ قتل کیس میں سزائے موت پانے والے 2 مجرموں کو عدالت نے بری کردیا


لاہور:

عدالت نے قتل کیس میں سزائے موت پانے والے دو مجرموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے 2 مجرمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں شک کا فائدہ دے کر بری کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت جسٹس شہرام سرور پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے  2 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ پیر مسعود چشتی پیش ہوئے اور عدالت کے روبرو دلائل دیے۔ اس موقع پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ صفدر خان اور کلب عباس کے خلاف تھانہ قادر پور، جھنگ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق پولیس نے درخواست گزاروں کے خلاف 18 جنوری 2018 کو مقدمہ درج کیا تھا۔ ان پر ظفر خان کے قتل اور ذوالفقار کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج جھنگ نے 29 اپریل 2023 کو دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مدعی مقدمہ اور زخمی ذوالفقار کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔ مزید یہ کہ ایک گواہ صفدر خان کو بے گناہ قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا اسے مجرم قرار دیتا ہے، جس سے استغاثہ کے مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتول کو گولیاں پیچھے سے لگیں، جبکہ گواہوں نے بیان دیا کہ فائرنگ سامنے سے کی گئی تھی۔ ان تضادات کی بنیاد پر ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور ملزمان کو بری کرنے کی استدعا کی گئی۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے دونوں مجرمان کو شک کا فائدہ دیا اور ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے کر صفدر خان اور کلب عباس کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔



پی این پی

lahore highcourtMurder Case
Comments (0)
Add Comment