برسلز :یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں جرمنی اور جمہوریہ چیک میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو گئے ہیں، جبکہ ہنگری، پولینڈ اور دیگر ممالک نے ملک گیر گرمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ جرمن ویدر سروس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، مشرقی جرمنی کےموکن ڈروٹس علاقے میں 27 تاریخ کو درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مسلسل دوسرے دن ریکارڈ بلند ترین سطح پر ہے۔شدید گرمی کے باعث جرمنی میں کئی مقامات پر شاہراہوں کی سطح متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد سڑکیں بند کر دی گئیں یا وہاں گاڑیوں کی رفتار محدود کر دی گئی۔ ریلوے حکام نے بھی شہریوں سے غیر ضروری طویل فاصلے کے سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق 28 جون کو بھی جرمنی کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ادھر جمہوریہ چیک کے ایک موسمیاتی مرکز نے 27 تاریخ کو کہا کہ اسی دن پراگ کے شمال میں ایک ویدر اسٹیشن نے 40.8 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا،جو ملک کی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔ اٹلی بھی شدید گرمی کی زد میں ہے۔ حکومت نے روم، وینس، فلورنس اور میلان سمیت 18 شہروں کے لیے "ریڈ” ہیٹ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں 27 تاریخ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ آئندہ چند روز میں 40 ڈگری سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ادھر پولینڈ کی موسمیاتی ایجنسی نے 27 تاریخ کو ملک بھر میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی، جس میں بعض علاقوں کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی وارننگ بھی شامل ہے ، اور دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔