راولپنڈی کے تھانہ سہالہ کے علاقے میں قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کے معاملے پر سہالہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قیدی وین پر تعینات راولپنڈی پولیس کے پانچ افسران و اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا جب کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے گرفتار 4 ملزمان اور ایف آئی آر میں نامزد 5 پولیس اہلکار عدالت میں پیش کیا، عدالت نے تمام 9 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، عدالت نے 20 20 ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی۔
عدالت نے ضمانتی مچلکوں کی عدم ادائیگی پر ملزم کو 14 دن بعد دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا، پولیس نے مجموعی طور پر 9 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وین کے انچارج سب انسپکٹر امتیاز اور چار اہلکار شامل ہیں جن میں ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم، عذیر اور دیگر اہلکار شامل ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں فرار ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیے گئے چار حوالاتیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جبکہ فرائض میں غفلت، کار سرکار میں مزاحمت اور فرار ہونے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس آفیسر نے بھی مقدمے کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی پولیس کے پانچ اہلکاروں اور چار حوالاتیوں سمیت فرار ہونے والے مجموعی طور پر دس ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، فرار ہونے والے اسیران کے گھروں پر رات گئے چھاپے بھی مارے گئے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، ملزمان کو آج اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت اور لاپرواہی پر ایس پی ہیڈکوارٹر مدثر اقبال کو تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس کلوز کر دیا جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد امتیاز کو معطل کر کے سی پی او کلوز کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے 10 حوالاتی قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار تھے، جن میں منشیات کے مقدمے کا ملزم عالم زیب 2024 کے کیس میں گرفتار تھا، سنگین ڈکیتی کے الزام میں وہاب قیوم بھی 2024 کے مقدمے میں گرفتار تھا، احتشام شبیر، عدیل اور شاہ ضیغم شاہ ڈکیتی کے مقدمات میں نامزد تھے، عدنان عرف دانی اور واحد عرف واحدی قتل کے مقدمات میں گرفتار تھے جبکہ شامیر، عبد الرحمن اور اسد ستی اقدام قتل اور دیگر جرائم کے مقدمات میں زیر حراست تھے۔
پی این پی