رواں مالی سال ترسیلات زر 41 ا رب ڈالر سے زائد رہیں گی، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیت بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 41 ا رب ڈالر سے زائد رہیں گی، مڈل ایسٹ کے حالات کے باوجود ترسیلات مستحکم رہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ترسیلات میں ایک ارب ڈالر کمی کا اندازہ لگایا تھا، ترسیلات کے عمل کو آسان اور چارجز کے بغیر ممکن بنایا، ترسیلات کو حکومت سبسڈائز نہیں کرے گی اب یہ کام بینک کریں گے، بینک ترسیلات کے ذریعے ٹریڈ فنانس کی صلاحیت بڑھا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پالیسی کے تحت امپورٹ پر کوئی کنٹرول نہیں کرتا، رواں مالی سال 70 ارب ڈالر کی درآمدات ہیں یہ سطح 2022 کے برابر ہے، 2022 میں 72 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں اس سال 17.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہوا، اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر ڈالنے پڑے تھے، اس سال صورتحال بہتر ہے 70 ارب ڈالر کی درآمدی ادائیگیوں کے باوجود مارکیٹ سے 8 ارب ڈالر خریدے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان سے بیرون ملک ورکرز جانے کی اوسط تعداد چھ سے سات لاکھ ہر برقرار ہے، بیرون ملک جانے والے ورکرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، ورکرز کی تعداد دگنی نہیں ہوئی لیکن ترسیلات کی مالیت 23 سے 40 ارب ڈالر پر آگئی ہیں۔

جمیل احمد نے کہا کہ 2015 سے 2022 تک بیرونی قرضے 55 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ہر سال 6.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، 2022 کے بعد سے بیرونی قرضے نہیں بڑھے، اسٹیٹ بینک نے تین سال میں مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت کی سبسڈی اسکیموں کو ختم کر کے مارکیٹ میں ٹرانسفر کیا گیا ہے، گزشتہ سال بھی دو انسینٹیو اسکیموں کا خاتمہ کیا گیا تھا، حالیہ یکم اور دو جولائی کو بھی دو انسینٹیو اسکیموں کو ختم کیا گیا ہے، سبسڈی اسکیموں کے خاتمے سے اوورسیز پاکستانی متاثر نہیں ہوں گے، فرق صرف یہ ہو گا کہ حکومت کی سبسڈی کی بجائے کمرشل بینک اس کا خرچہ برداشت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سوہنی دھرتی اسکیم کو ختم کیا، اس کے متبادل ایک بہتر اسکیم لانے جا رہے ہیں، ترسیلاتِ زر پاکستان کی لائف لائن ہے، ایکسپورٹس بڑھنے میں وقت لگے گا، تاہم رواں مالی سال برآمدات بہتر رہیں گی، مالی سال 26ء میں فوڈ سیکٹر بالخصوص چاول کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے مجموعی برآمدات کم ہوئیں، نان فوڈ سیکٹر کی برآمدات میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتیں بہتر ہونے سے فوڈ سیکٹر کی برآمدات بہتر ہوں گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ تجارتی خسارہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا تدارک ایکسپورٹ بڑھا کر کیا جاسکتا ہے، تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے امپورٹ کو کم نہیں کریں گے، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کو بہتر کررہے ہیں حجم میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم تاریخ کی سب سے کامیاب اسکیم ثابت ہوگی، اسکیم کی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، بینک قرضہ منظور کردیتے ہیں لیکن فروخت اور خریداری کے معاہدے کے دوران قیمت اور دوسرے مسائل درپیش رہتے ہیں، ایک کروڑ کے اندر معاہدہ ہو جائے تو بینک فوری ادائیگی کررہے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کاروباری طبقے کی کوششوں سے معاشی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے۔ نئے مالی سال میں معاشی نمو کا سلسلہ جاری رہے گا اور گزشتہ مالی سال کی معاشی نمو بھی اسٹیٹ بینک کی توقعات کے مطابق رہی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ جون میں مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد رہی، سالانہ مہنگائی بھی توقعات کے مطابق رہی، مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کے باعث مہنگائی توقعات سے کچھ زیادہ رہی۔



پی این پی

governor state bank press confrence
Comments (0)
Add Comment