بیجنگ :بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی ایک سو پانچویں سالگرہ کی تقریب سے چینی صدر شی جن پھنگ کی اہم تقریرعوام کو اولین ترجیح دینے کے سی پی سی کے تصورکی عکاسی کرتی ہے ۔ یہ تصور سی پی سی کی قیادت میں چین کی مسلسل کامیابیوں کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور عالمی امن اور ترقی کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکرٹری جنرل پینو آرلاکی نے کہا کہ سی پی سی نے عوام کی خدمت، تنظیمی صلاحیت اور عالمی نظم و نسق کے تحفظ میں زبردست برتریوں کا مظاہرہ کیا ہے اور چین کا یہ تصور دوسرے ممالک کے لیے سیکھنے کے قابل ہے۔ برازیل کی حکمران ورکرز پارٹی کی ریو ڈی جنیرو اسٹیٹ ایگزیکٹو کمیٹی کی نائب صدر ماریا دی فاطمہ بزیرا کا کہنا ہے کہ صدر شی اور چینی عوام کے ترقیاتی تجربے سے سیکھنا ہماری نسل کے لئے ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ سری لنکا کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری جی ویراسنگھے نے کہا کہ جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کی برتریوں کو پوری طرح سے ظاہر کرتے ہوئے نئے دور میں چین کے قومی حالات پر مبنی مارکسزم کی نئی منزل متعین کی ہے ۔ روس کی پیسیفک نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر یوری پکالوف کا خیال ہے کہ عوام کا اعتماد ہی سی پی سی کی دنیا کی سب سے بڑی حکمران جماعت بننے کی وجہ ہے اورسی پی سی نے ہمیشہ عوام کی خوشیوں کو اپنا ہدف سمجھا ہے۔ بیلجیم میں مارکسسٹ یونیورسٹی آف برسلز کے بانی اور اسکالر آندرے ورمیرش کا ماننا ہے کہ صدر شی کی تقریرعالمی اہمیت کی حامل ہے اور سی پی سی کے تصورات دوسرے ممالک کے لیے سیکھنے کے قابل ہیں۔