پشاور کی سیشن کورٹ نے نجی قرض پر مبینہ غیر قانونی سود کے مطالبے کے خلاف دائر درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج عمران اللہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ خیبر پختونخوا کے نجی قرضوں پر سود کی ممانعت سے متعلق قانون کے تحت عدالت ایسے معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
فیصلے کے مطابق مدعی عارف خان، جو جمرود روڈ پر واقع ایک نجی ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے کاروبار کے لیے تاج ولی نامی شخص سے قرض لیا تھا، جسے واپس کرنے کے باوجود ملزم مبینہ طور پر غیر قانونی سود اور اضافی رقم کا مسلسل مطالبہ کرتا رہا۔
درخواست میں کہا گیا کہ جرگہ ہونے اور اصل رقم کی ادائیگی کے باوجود مدعی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ پولیس اسٹیشن سے رجوع کرنے پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبرپختونخوا پروہبیشن آف انٹرسٹ آن پرائیویٹ لان ایکٹ 2016 کی سیکشن 6 کے تحت سودی لین دین کی شکایت موصول ہونے پر عدالت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
اسی بنیاد پر عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے اور معاملے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور میرٹ پر تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔
پی این پی