’ہار کے جیتنے والے کو بازی گر کہتے ہیں‘ آپ نے شاہ رخ خان کی ایک فلم کا یہ مشہور فقرہ تو سنا ہی ہوگا۔
یہ فقرہ فیفا ورلڈکپ میں پہلی مرتبہ رسائی حاصل کرنے والے سب سے چھوٹے ملک کی ٹیم کیپ وردے پر مصداق آتا ہے۔
کیپ وردے کی ٹیم ٹائٹل تو نہ جیت سکی لیکن اپنی جرات، جذبے اور شاندار کھیل سے دنیا بھر کے فٹبال شائقین کے دل ضرور جیت لیے۔
راؤنڈ آف 32 میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کے خلاف 2-3 کی سنسنی خیز شکست کے باوجود ٹیم کی کارکردگی کو ٹورنامنٹ کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دنیا کی 67ویں رینکنگ رکھنے والی کیپ وردے نے گروپ مرحلے میں یورپی چیمپئن اسپین کو گول نہ کرنے دے کر سب کو حیران کردیا جبکہ یوراگوئے کے خلاف اپنے ورلڈ کپ کا پہلا گول بھی اسکور کیا۔
ارجنٹینا کے خلاف لیونل میسی کے گول کے باوجود کیپ وردے نے دو مرتبہ مقابلہ برابر کیا۔ خاص طور پر سڈنی لوپس کابرال کا شاندار گول شائقین کی توجہ کا مرکز بنا تاہم اضافی وقت میں بدقسمت ڈیفلیکشن کے باعث ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
ہیڈ کوچ بوبستا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ثابت کر دیا کہ ایک چھوٹا ملک بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہےجبکہ کپتان اور کھلاڑیوں نے اس مہم کو ملکی تاریخ کا یادگار باب قرار دیا۔
https://x.com/BBCSport/status/2073210841445417182?s=20
ٹورنامنٹ میں 40 سالہ گول کیپر ووزینیا بھی ہیرو بن کر ابھرے جنہوں نے اسپین اور ارجنٹینا کے خلاف متعدد شاندار گول بچائے۔
انہوں نے مجموعی طور پر 18 گول بچائے، جو اس ورلڈ کپ میں تیسرا بہترین ریکارڈ رہا۔
سابق انگلش اسٹار گیری نیول اور ایان رائٹ نے کیپ وردے کی کارکردگی کو عالمی فٹبال کے لیے متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع چھوٹے ممالک کو بھی ملنے چاہییں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔
پی این پی