بیجنگ :حال ہی میں،چین کے خود اختیار علاقے اندرونی منگولیا کی 60 سالہ صحرا کو سرسبز بنانے کے حوالے سے معروف شخصیت محترمہ یِن یُو زین کی سوشل میڈیا پر ویڈیو نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے امریکی دوست “سائیکوس” کی تلاش کر رہی تھیں۔ ستائیس برسوں پر محیط یہ چین-امریکا دوستی، اپنی سادگی، خلوص اور پاکیزگی سے دلوں کو چھو گئی۔ یہ کہانی دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت، قربت اور باہمی تعاون کی خوبصورت مثال بن گئی ہے۔1999 میں، چین کے لو یانگ کے انسٹیٹیوٹ آف فارن لینگویجز میں مقرر ہونے والے امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی (جن کا چینی نام “سائیکوس” ہے)، نے ٹی وی پر یِن یُو زین کی صحرا کو سرسبز بنانے کی جدوجہد دیکھی تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے فوراً مختلف امریکی اداروں سے رابطہ کیا اور 5000 امریکی ڈالر جمع کر کے ایک فاؤنڈیشن کے ذریعے یہ رقم عطیہ کر دی۔ بعد ازاں وہ خاص طور پر ماوُوسو صحرا پہنچے تاکہ صحرا میں تنہا جدوجہد کرنے والی چینی خاتون کے اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اس وقت یہ رقم ین یو زین کے لیے بہت قیمتی تھی۔ یِن یُو زین نے یہ احسان اپنی آنے والی نسل کے لیے محنت اور لگن کی ایک عمدہ مثال بنا دی۔ان پیسوں سے انہوں نے پودے خریدے اور کئی برسوں تک شجرکاری جاری رکھی۔ دن رات کی محنت سے یہ پودے پچاس ہزار سے زائد درختوں میں تبدیل ہو گئے، اور کبھی سنسان ریتلا علاقہ آج ایک سرسبز چراگاہ میں بدل چکا ہے۔ستائیس برسوں سے، یِن یُوزین اس مخلصانہ احسان کو نہیں بھولیں، لیکن رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ سائیکوس کا شکریہ ادا نہ کر سکیں۔آخرکار انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر کے اپنے امریکی دوست کی تلاش شروع کی تاکہ وہ بھی اپنی آنکھوں سے اس سرسبز صحرا کو دیکھ سکیں۔ ان کی یہ اپیل دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور صرف 26 گھنٹوں میں ہی ہزاروں صارفین نے ان دونوں کو ستائیس سال بعد دوبارہ ملا دیا۔ ویڈیو کال کے دوران دونوں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور سائیکوس نے چین دوبارہ آنے کا وعدہ کیا۔اس واقعے کے بعد ایک اور خوشخبری سامنے آئی، امریکہ میں قائم چینی سفارتخانے نے سائیکوس کو چینی روایتی تہوار ڈریگن بوٹ فیسٹیول پر مدعو کیا اور ان کے ساتھ یہ تہوار منایا۔ سفارت خانے نے انہیں تحائف پیش کیے اور چینی سفیر شیے فنگ نے ذآتی طور پر انہیں چین کا ویزا دیا۔بعد ازاں، سائیکوس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ملاقات ایک معجزہ ہے۔ چین میں ان کا مختصر تدریسی تجربہ ان کے دل میں چین سے محبت کا بیج بو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے امریکی کلاس روم کی دیواروں پر چین سے متعلق تصاویر اور یادگاریں سجی ہوئی ہیں، جن میں ماوُوسو صحرا کے سفر اور چینی دوستوں کے ساتھ تصاویر شامل ہیں۔ اب وہ اسی سال دوبارہ چین جا کر یِن یُو زین کے ساتھ نئے پودے لگائیں گے تاکہ یہ سرحدوں سے پار دوستی ہمیشہ کے لیے زندہ رہے۔یہ کہانی 1999 میں شروع ہوئی تھی، اس وقت دنیا شدید عدم استحکام سے گزر رہی تھی۔ نیٹو کی جانب سے چینی سفارت خانے پر بمباری کے بعد چین-امریکا تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ امریکی انٹرنیٹ کمپنیاں دنیا بدلنے کا خواب دیکھ رہی تھیں اور یورپ میں ایک نئی کرنسی (یورو) طاقت کے توازن کو بدل رہی تھی۔ ایسے ماحول میں، اندرونی منگولیا کے ماوُوسو صحرا کے کنارے پر ایک مختصر سی ملاقات، شاید دنیا کی نظر میں معمولی تھی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی چھوٹا سا جذبہ برسوں بعد ایک بڑی انسانی کہانی بن گیا۔ ستائیس سال بعد جب ویڈیو کال ہوئی، تو اسکرین کے اس پار ریت اور ہواؤں سے تپے چہرے والی ایک چینی کسان خاتون تھیں اور دوسری جانب ایک سفید بالوں والے، نرم مزاج امریکی بزرگ تھے۔ یِن یُو زین نے بھرائی ہوئی آواز میں صرف اتنا کہا کہ “آپ میرے بھائی ہیں”، یہ ایک جملہ برسوں کی محبت، شکرگزاری اور یادوں کا آئینہ دار تھا۔اس کہانی کا دلچسپ پہلو اس کا “خوشگوار اختتام”(Happy ending)ہے۔ جب چین-امریکا تعلقات کو “اسٹریٹجک مقابلے” اور “جغرافیائی سیاست” کے الفاظ میں سمویا جا رہا ہو، تو ایسے میں ایک عام انسان کی کہانی کا سفارتی سطح پر دکھایا جانا، احسان ادا کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ چینی سفارت خانے کی جانب سے انہیں ڈریگن بوٹ فیسٹیول پر مدعو کرنا، صرف ویزا یا تحائف کی بات نہیں، بلکہ یہ ریاستی سطح پر ایک مؤقف ہے: چاہے بڑا جہاز طوفان میں بل کھا رہا ہو، ہم پھر بھی یاد رکھتے ہیں کہ جہاز کیبن میں وہ کونسے لوگ تھے جو ایک دوسرے کو لائف بوائے سے گزر چکے تھے۔۔۔۔ حالات جیسے بھی ہوں، انسانی محبت اور احسان کبھی فراموش نہیں کیے جاتے۔یہی ہے “سائیکوس” کے نام کی اہمیت۔ہم اکثر چین امریکہ تعلقات سے متعلق خبروں میں “تھوسی ڈائیڈز ٹریپ” (Thucydides Trap)، “ڈکپلنگ” (Decoupling) اور “اسٹریٹجک کھیل” کے الفاظ سنتے ہیں۔ یہ سخت الفاظ ہیں، گویا دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، مگر “سائیکوس” کی کہانی ایک مختلف حقیقت بیان کرتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عام انسانوں کی نیکی، محبت اور خلوص ہر دیوار عبور کر سکتی ہے۔سائیکوس نہ کوئی سیاستدان ہیں نہ ہی سفارتکار ، وہ صرف ایک عام انسان ہیں ،جنہیں زمین اور ماحول سے محبت تھی اور یِن یُو زین ایک ایسی خاتون ہیں، جنہوں نے کبھی احسان کو فراموش نہیں کیا۔ ان دونوں عام انسانوں نے مل کر ستائیس برسوں میں نہ صرف صحرا میں ہریالی اگائی بلکہ دو بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا ایک ننھا سا پودا بھی زندہ رکھا۔تو، پھر سائیکوس کون ہے؟ہر وہ انسان جو سردیوں میں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دھوپ اب بھی موجود ہے۔ ہر وہ انسان جو اس حقیقت کی علامت ہے کہ دنیا کتنی ہی تقسیم کیوں نہ ہو ، انسانیت، محبت اور باہمی تعاون ہی سب سے طاقتور قوت ہیں۔جب تک دنیا میں “سائیکوس” جیسے لوگ موجود ہیں، انسانیت کا یہ سرسبز نخلستان کبھی خشک نہیں ہو گا۔