سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران پولیس نے دونوں لڑکیوں کو عدالت میں پیش کر دیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی نے قربان نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔
وکیل درخواست گزار بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ بڑی لڑکی کی عمر 14 سال ہے جسے قربان نامی شخص نے اغوا کیا ہے جبکہ 14 سالہ بے بو 6 سالہ بہن علینا کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔
کمرہ عدالت میں لڑکیوں کے باپ حیات اللہ نے دہائیاں دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں۔
لڑکی بے بو نے بیان دیا کہ والد ظلم کرتا تھا اس لیے میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کر دی۔
والد احاطہ عدالت میں بیٹیوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا رہا لیکن لڑکیوں نے باپ سے ملنے سے انکار کر دیا۔
پی این پی