شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے چین کی مئوثرحکمتِ عملی

بیجنگ :میں 1987 سے 1989 تک پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہا۔ لاہور کی سخت گرمی کا تجربہ میں نے خود کیا ہے۔کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور پورا دن پسینے میں شرابور رہتے تھے، اور مقامی لوگ موٹر سائیکل چلاتے وقت، خواہ کتنی ہی گرمی کیوں نہ ہو، جھلسا دینے والی گرم ہوا سے بچنے کے لیے موٹے کپڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ آج کل شدید گرمی عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے؛ وہ یورپی خطے، جہاں موسم عموماً معتدل رہتا تھا، اب اکثر انتہائی گرمی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ معمول کی گرمی کے اس دور میں عوام کی صحت اور جانی تحفظ کو یقینی بنانا، خاص طور پر مزدوروں کی صحت اور ان کے حقوق کا تحفظ، تمام ممالک کے لیے ایک مشترکہ امتحان ہے۔چین کے وسیع رقبے میں گرمیوں کی لہریں متعدد علاقوں کا معمول ہوتی ہیں۔ مسلسل گرمی کے دوران محنت کشوں کی صحت اور ان کے حقوق کا تحفظ، گرمیوں میں عوامی فلاح و بہبود کا مرکزی موضوع ہے۔ بچپن کی یادوں میں گرمیوں کے تحفظ کے کچھ مناظر اب بھی تازہ ہیں، میرے والدین کی ملازمت کے اداروں میں ہر سال گرمیوں میں نہ صرف ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا تھا، بلکہ ایک مخصوص سپلائی ونگ قائم کر کے سوڈا اور آئس کریم تیار کی جاتی تھی اور مفت تقسیم کی جاتی تھی۔ یہ سادہ مگر دل کو چھو لینے والے اقدامات، اس زمانے میں چین کی نچلی سطح پر گرمی سے بچاؤ کے نظام کی زندہ تصویر ہیں۔ برسوں کے دوران چین نے گرمی سے تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا ہے، اور باریک بینی سے ہر طبقے کے لیے ایک منظم نظام تشکیل دیا ہے، جو عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو اولین ترجیح دینے کے حکومتی فلسفے کا عکاس ہے۔مضبوط قانونی ڈھانچہ، چین میں عوامی فلاح و بہبود کے اس نظام کی بنیاد ہے۔ 2012 میں ہی چین کے متعلقہ محکموں نے مشترکہ طور پر “گرمی سے بچاؤ اور درجہ حرارت کم کرنے کے اقدامات کے انتظامی طریقہ کار” کا اعلان کیا، جس سے ایک قومی سطح کا، طویل مدتی اور مستحکم قانونی فریم ورک قائم ہوا، اور گرمی سے تحفظ کے لیے یکساں معیار نہ ہونے کا خلا پُر ہوا۔ اس طریقہ کار میں درجہ حرارت کی سطح کے لحاظ سے درجہ بندی کے تحت قواعد مقرر کیے گئے ہیں تاکہ سائنسی اور درست تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ 35 سے 37 ڈگری سنٹی گریڈ تک شفٹوں کا بہتر انتظام کیا جاتا ہے اور اوور ٹائم پر سخت پابندی ہوتی ہے۔ 37 سے 40 ڈگری تک آوٹ ڈور کام کے اوقات میں نمایاں کمی کی جاتی ہے، اور جب درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر جائے تو آوٹ ڈور تمام کام معطل کر دیئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، قومی سطح پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ گرمی کا الاؤنس تنخواہ کا قانونی حصہ ہے، اسے کسی غیر نقدی شے سے بدلنا منع ہے، اور کام کے دوران ہیٹ اسٹروک کو پیشہ ورانہ حادثہ تصور کیا جائے گا،جس پر کارکن صنعتی حادثاتی انشورنس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، یوں قانون کے ذریعے مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ملک کے شمال اور جنوب میں موسمی اختلافات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ہر مقامی حکومت نے اپنے حالات کے مطابق پالیسیوں کو باریکی سے تشکیل دیا ہے تاکہ گرمی سے تحفظ کے اقدامات درست طریقے سے نافذ ہو سکیں۔ جنوب میں گرمی کا دورانیہ طویل ہوتا ہے، اس لیے گوانگ ڈونگ اور گوانگ شی کے علاقوں میں گرمی کا الاؤنس پانچ ماہ تک دیا جاتا ہے، جبکہ مشرقی چین کے بیشتر صوبوں میں یہ مدت چار ماہ ہے۔ شمال میں مقامی حکومتیں موسمِ گرما کی آمد کے لحا ظ سے سائنسی بنیادوں پر الاؤنس کی مدت طے کرتی ہیں، تاکہ پالیسیاں مقامی عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں۔ ہر سال گرمیوں میں، قومی سطح پر انسانی وسائل اور سماجی تحفظ کے ادارے باقاعدگی سے گرمی سے متعلقہ تحفظ کے لیے خصوصی قانونی نگرانی کی کارروائیاں کرتے ہیں، اور 12333ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔ تعمیرات، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی دیکھ بھال، اور ڈیلیوری جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ کاروباری اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام تحفظاتی اقدامات میدانِ عمل تک پہنچیں۔تمام طبقات پر محیط عوامی فلاح کی خدمات نے گرمی سے تحفظ کو مزید انسانی رنگ دیا ہے۔ آل چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی “آؤٹ ڈور ورکرز سروس اسٹیشنز – ڈبل 15 پروجیکٹ” کے تحت، دسمبر 2024 تک ملک بھر میں 1 لاکھ 86 ہزار سے زائد آؤٹ ڈور ورکرز سروس اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں۔ یہ خدمات تقریباً بیس کروڑ افراد کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، اور روزانہ اوسطاً 23 لاکھ سے زائد آؤٹ ڈور مزدور ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ اسٹیشنز تعمیراتی مقامات ، چوراہوں، اور کاروباری مراکز میں قائم ہیں، جہاں مفت ایئر کنڈیشنگ، پینے کا صاف پانی، اور گرمی سے بچنے کے لیے ادویات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے آؤٹ ڈور مزدوروں کو گرمی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، گرمیوں کے دوران ملک بھر میں لائبریریوں، حکومتی ہالز، اور کمیونٹی سروس سینٹرز کو مفت کولنگ سینٹرز کے طور پر کھولا جاتا ہے، اور شہروں کی دیکھ بھال کے کاموں میں بھی وقت کا تعین کر کے شدید دوپہر کی گرمی سے بچا جاتا ہے تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔خصوصی گروہوں کے لیے، چین نے ایک درست اور مکمل سیفٹی نیٹ تشکیل دیا ہے۔ مقامی حکومتیں گرڈ سسٹم کی بنیاد پر، باقاعدگی سے تنہا رہنے والے بزرگوں، کمزور بچوں، اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے گھروں پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیتی ہیں، گرمی سے متعلق گھریلو خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں، کولنگ آلات کی مرمت کراتی ہیں، اور گرمی سے بچاؤ کی اشیاء فراہم کرتی ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مفت اور عوامی نگہداشت کے مراکز قائم کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف کام کرنے والے والدین کے گھرانوں کے لیے بچوں کی نگہداشت کا مسئلہ حل کرتے ہیں، بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ اور ٹھنڈی جگہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ مزید برآں، طبی ادارے ہیٹ اسٹروک کے علاج کے لیے فوری رسائی کے راستے کھولے ہیں، اور بنیادی سطح پر صحت کے ادارے باقاعدگی سے گرمی سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی اور مفت طبی معائنے کر رہے ہیں، جس سے صحت کا مربوط تحفظی نظام قائم ہواہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چین کا گرمی سے تحفظ کا نظام مسلسل بہتری کی راہ پر گامزن ہے؛ دور دراز کے علاقوں میں سروس پوائنٹس کی کمی اور غیر روایتی روزگار (Freelance/Gig workers) والے طبقات کے تحفظ کے مسائل کو دیکھتے ہوئے، متعلقہ ادارے مسلسل خامیوں کو دور کر رہے ہیں اور نظام کی درستگی کو مزید بہتر کر رہے ہیں۔شدید گرمی سماجی نظم و نسق کی صلاحیت کا امتحان ہے۔ چین نے ادارہ جاتی تحفظ، عوامی فلاح کی خدمات، اور عوامی فلاح کی عملی پالیسیوں کے ذریعے عالمی موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے۔ یہاں رسمی اور دکھاوا کرنے والے اقدامات نہیں کیے جاتے، بلکہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ عوامی سہولتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عوام کی جان و صحت اور مزدوروں کے حقوق کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے، اور یہی چینی طرزِ جدیدیت میں عوامی فلاح اور مشترکہ ترقی کے فلسفے کا عملی مظہر ہے۔

Comments (0)
Add Comment