مجھے قتل کیا گیا تو ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا، ٹرمپ کا فوج کو حکم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر سامنے آنے والے بعض نعروں اور بینرز کے بعد، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا، ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے بقول ایران طویل عرصے سے انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ خود کو کئی برسوں سے ممکنہ خطرات کی فہرست میں شامل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان پر کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو وہ پہلے ہی امریکی فوج اور اعلیٰ حکام کو مناسب اور انتہائی سخت جواب دینے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں امریکہ بھرپور طاقت سے جواب دے گا۔

گفتگو کے دوران ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو امید ہے لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔

تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان پر کوئی وضاحتی مؤقف جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ 2020 میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ایرانی عہدیدار مختلف مواقع پر اس کارروائی کا بدلہ لینے کی بات کرتے رہے ہیں، تاہم ایران نے امریکی رہنماؤں کے خلاف کسی عملی منصوبے کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں کی۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے موقع پر بعض شرکاء کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے، جبکہ کچھ بینرز پر بھی ان کے خلاف سخت مطالبات درج تھے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔

پی این پی