لاہور(سٹاف رپورٹر )پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن انچیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری ،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی ،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی سروے 2026 نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے صرف معاشی مراعات اور پالیسی اصلاحات کافی نہیں بلکہ محفوظ اور پرامن کاروباری ماحول بنیادی شرط ہے،صنعتی علاقوں، تجارتی راہداریوں اور بڑے شہروں میں موثر پولیسنگ، جدید نگرانی کے نظام اور فوری انصاف کو یقینی بنایا جائے،
اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط سکیورٹی حکمت عملی تشکیل دی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ کراچی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہ میں امن و امان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان علاقوں کی صورتحال مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول پر اثرانداز ہوتی ہے۔ صرف ٹیکس مراعات اور پالیسی اصلاحات کافی نہیں بلکہ سکیورٹی کے حوالے سے عالمی معیار کا ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ سکیورٹی خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کے اخراجات میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی پیدا ہوتی ہے۔ پیاف کے رہنمائوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امن و امان کے ساتھ ساتھ موثر ابلاغ اور مثبت عالمی تاثر کو بھی قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ پاکستان براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور قابل اعتماد منزل بن سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ امن و امان میں بہتری نہ صرف نئی سرمایہ کاری کو راغب کرے گی بلکہ پہلے سے موجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توسیعی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کرے گی۔ سکیورٹی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں کو یکساں اہمیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔