سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی تاریخ کو مسخ کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) افغان طالبان کی عبوری حکومت کے وزیرِ زراعت عطا عمری کے ایک حالیہ بیان نے سیاسی اور تاریخی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔

انہوں نے سلطان محمود غزنوی کے سومنات سے متعلق تاریخی اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بت شکنی کا فیصلہ درست نہیں تھا، جبکہ اس موقع پر تمام مذاہب کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یہ بیان 12 جولائی کو بھارت کے دورے اور نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا، جس کے باعث مختلف حلقوں میں اس پر متضاد ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اسے بھارت کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ کچھ ماہرین نے اسے تاریخی واقعات کی نئی تعبیر سے تعبیر کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ دور میں تمام مذاہب کے احترام کو عالمی اصول تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم صدیوں پرانے تاریخی واقعات کو آج کے سیاسی اور سماجی تناظر میں پرکھنا درست نہیں۔

ان کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے اپنے طویل دورِ حکومت میں غزنوی سلطنت کو ایک مضبوط علاقائی طاقت بنایا، جبکہ 1025ء میں سومنات کی مہم اس وقت کی سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔کچھ مبصرین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ تاریخی شخصیات کے کردار پر تنقید کرنے والے افغان حکام کو خطے میں مذہبی مقامات اور اقلیتوں سے متعلق موجودہ پیش رفت پر بھی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت میں مساجد سے متعلق حالیہ تنازعات پر افغان قیادت کی خاموشی بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

پی این پی