بیجنگ (شِنہوا)چین میں خد مات سر انجام دینے میں مصروف عمل پاکستانی محقق اور سرجن ڈاکٹر محمد شہباز کا علمی و پیشہ ورانہ سفر پاکستان کے نوجوان طلبا کے لیے کامیابی کی ایک روشن مثال بن گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد شہباز نے نہ صرف چین میں میڈیکل ایجوکیشن حاصل کی بلکہ تحقیق، سرجری، روبوٹک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور پاک چین تعلیمی و طبی تعاون کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ڈاکٹر محمد شہباز نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ 12 فروری 2006 کو چین پہنچے۔ انہیں چین میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ان کے والدین نے حوصلہ افزائی کی۔ اُن سالوں میں چین میں ایم بی بی ایس پاکستانی طلبا کے لیے ایک مقبول اور قابل اعتماد انتخاب بن رہا تھا۔ چین کی میڈیکل یونیورسٹیوں کا معیار، جدید سہولیات اور بین الاقوامی ماحول طلبا کے لیے نئی راہیں کھول رہا تھا۔ ان کے خاندان نے ہمیشہ انہیں علم حاصل کرنے، آگے بڑھنے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کچھ بہتر کرنے کی ترغیب دی۔چین میں ان کے ابتدائی دن یادگار تجربات سے بھرپور تھے۔انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے لئے چین آنا کسی بھی بیرون ملک یہ ان کا پہلا سفر تھا، اس لیے چین کی زندگی، تہذیب، زبان اور تعلیمی ماحول ان کے لیے ایک نئی دنیا کی مانند تھی۔ انہوں نے بتا یا کہ چین آنے سے پہلے ان کے ذہن میں چینی عوام کے بارے میں کئی دلچسپ تصورات تھے، مثلاً وہ سمجھتے تھے کہ شاید ہر چینی جیکی چن کی طرح کنگ فو جانتا ہوگا اور ہر طرف سائیکلیں ہی نظر آئیں گی۔ مگر چین پہنچ کر انہیں ایک ترقی یافتہ، منظم، محنتی اور جدید معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔چینی زبان سیکھنا اور مقامی کھانوں کے مطابق اپنے کھانوں سے لطف اندوز ہونا ان کے لئے ایک دلچسپ سفر تھا تاہم انہوں نے اسے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ذریعہ بنایا۔ میڈیکل کورسز کے ساتھ چینی زبان سیکھنابھی ان کے لیے اہم تھا کیونکہ اس زبان نے انہیں اساتذہ، مریضوں اور مقامی معاشرے سے بہتر رابطہ قائم کرنے میں مدد دی۔ڈاکٹر محمد شہباز نے اپنی میڈیکل تعلیم کا آغاز شان ڈونگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے کیا۔ انہوں نے 2006 سے 2011 تک ایم بی بی ایس مکمل کیا، 2012 سے 2015 تک جنرل سرجری میں ماسٹرز کیا اور 2015 سے 2020 تک منیمل ایکسس سرجری میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے 2021 سے 2023 تک شان ڈونگ یونیورسٹی کے چھی لو ہسپتال سے پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی مکمل کی۔انہوں نے بتا یا کہ ان کی تحقیق کا مرکز جدید سرجری، مکسڈ ریئلٹی، مصنوعی ذہانت، ہولو لینز، لیپروسکوپک اور روبوٹک سرجری ہے۔ انہوں نے جگر کی سرجری میں آگمینٹڈ ریئلٹی اور ورچوئل ریئلٹی پر مبنی نیویگیشن ٹریننگ سسٹم کے استعمال پر کام کیا جس کا مقصد سرجنز کی تربیت کو مزید مؤثر، محفوظ اور جدید بنانا ہے۔ اس کے علاوہ جگر کے کینسر میں ٹارگٹڈ تھراپیز بھی ان کی تحقیق کا اہم میدان رہی ہیں۔ڈاکٹر شہباز نے بتا یا کہ جنرل سرجری، روبوٹک اور لیپروسکوپک سرجری کے انتخاب کے پیچھے ان کے والدین، خاندان اور خاص طور پر ان کے اہل خانہ کی حوصلہ افزائی شامل تھی۔ ان کے چچا اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے گاؤں اور شہر میں جدید معیار کے ہسپتالوں کی ضرورت ہے تاکہ شدید بیمار مریضوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر محمد شہباز گزشتہ 20 برس سے چین میں رہائش پزیر ہیں اور اب پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔چینی نظام تعلیم کے بارے میں ڈاکٹر شہباز کا کہنا ہے کہ چین نے جدید طبی تعلیم، تحقیقی سہولیات، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے میڈیکل ایجوکیشن کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ چینی جامعات میں طلبا کو جدید لیبارٹریز، تحقیق کے وسیع مواقع اور عملی تربیت کا بہترین ماحول فرا ہم کیا جا تا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے میڈیکل کالجز بھی باصلاحیت طلبا، تجربہ کار اساتذہ اور مضبوط کلینیکل تربیت کے ذریعے عالمی سطح کے ڈاکٹرز اور سرجنز تیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین اور پاکستان دونوں ممالک طبی تعلیم میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر مزید بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر شہباز نے بتا یا کہ وہ چین سے حاصل کردہ اپنے علم، تحقیق، تجربے اور عالمی روابط کے ذریعے پاکستان کے طبی شعبے میں جدید تربیت، تحقیقی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، پاک چین طبی تعاون اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ کہ وہ پاکستان میں جگر کے کینسر، جنرل سرجری، جدید آپریشن تھیٹرز، سرجیکل سیفٹی، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور روبوٹک سرجری جیسے شعبوں میں آگاہی اور تربیت کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں پاکستان کے نوجوان ڈاکٹرز عالمی معیار کی مہارت حاصل کر کے نہ صرف ملک کے اندر بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔انہوں نے مز ید بتایا کہ پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں کے لیے بھی ان کا تجربہ بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے، چونکہ وہ خود سرگودھا کے ایک علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں جدید علاج کی سہولیات کتنی اہم ہیں۔ وہ ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ہیلتھ، موبائل سرجیکل ٹریننگ یونٹس اور جدید تشخیصی نظام کے ذریعے ایسے علاقوں تک بہتر طبی خدمات پہنچانے کے لیے پالیسی تجاویز اور عملی منصوبے پیش کر سکتے ہیں جو کہ پا کستان میں طبی شعبے کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔