چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں تعاون و ترقی کے لیے ایکشن پلان جاری

بیجنگ : عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس شنگھائی میں منعقد ہوا۔ جمعہ کے روز اجلاس کے دوران چین کے قومی کمیشن برائے ترقی و اصلاحات نے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت میں تعاون و ترقی کے لیے ایکشن پلان” جاری کیا۔یہ ایکشن پلان ڈیٹا، کمپیوٹنگ پاور، ماحولیاتی نظام، باصلاحیت افراد، ضوابط، حکمرانی اور اخلاقیات سمیت آٹھ شعبوں میں اقدامات کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے اقدام کا جواب ہے۔ اسی روز چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر “مصنوعی ذہانت کی اخلاقی حکمرانی کے لیے بین الاقوامی ایکشن پلان” بھی جاری کیا، جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لیے اصولی اور عملی ایکشن فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، اجلاس کے دوران ” پان شی سائنٹیفک فاؤنڈیشن ماڈل 2 بھی باضابطہ طور پر جاری کیا گیا، جسے چینی اکیڈمی آف سائنسز کے متعدد اداروں نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ متعدد جائزوں اور تشخیصی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیمسٹری، حیاتیات اور مواد سمیت مختلف سائنسی شعبوں میں پان شی ماڈل 2.0 کی کارکردگی بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔

مصنوعی ذہانت
Comments (0)
Add Comment