جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کے علاقے میں دریا کے کنارے جانوروں کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بنایا گیا تھا۔ طویل عرصے سے دریا کے کنارے جانور ذبح ہوتے رہے، تاہم مقامی انتظامیہ اس صورتحال سے مکمل طور پر لاعلم رہی اور اب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آ گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپر سوات کی ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔
حکومتی احکامات کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی سیاحتی مقامات اور دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے قیام اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ماحولیاتی آلودگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر انتظامی غفلت کے سبب دریاؤں میں آلائشیں پھینکنے کا یہ عمل عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔
پی این پی