اسلام آباد: پاکستان کے عوامی جمہوریہ چین میں سفیر، خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی تعلقات اب سرمایہ کاری پر مبنی کاروباری تعاون (B2B) کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے مثالی سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں کاروباری برادری سے تبادلہ خیالات کی
ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران پاکستان کے سفارت خانے نے چین کے ساتھ مضبوط سرکاری سطح کے تعلقات، خصوصاً سی پیک، کو نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط سے جوڑنے اور چین سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کے ہمراہ چین میں پاکستان کے سابق ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر غلام قادر بھی موجود تھے۔
سفیر خلیل ہاشمی نے بتایا کہ تحقیقی بنیادوں پر چین کے لیے سرمایہ کاری کے 21 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ادویات، بائیوٹیکنالوجی، صحت، آئی ٹی، ٹیلی کام، توانائی، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل آلات اور دیگر شعبوں میں چھ کاروباری سرمایہ کاری کانفرنسیں اور چھ سرمایہ کاری روڈ شوز منعقد کیے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں 670 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs)، تقریباً 40 مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) اور 22 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے، جبکہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی معاہدوں میں تبدیل ہونے کی شرح تقریباً 30 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی صرف ایم او یوز پر دستخط نہیں بلکہ انہیں عملی منصوبوں، اور پائیدار سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے چین کو “اکیسویں صدی کی سرزمینِ مواقع” قرار دیتے ہوئے پاکستانی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ معیاری، قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں منصوبوں کے ساتھ آگے آئے تاکہ معتبر چینی شراکت داروں کو راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سیمی کنڈکٹرز، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان اور اسپورٹس ویئر سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ سرمایہ کاری کو تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت اور ہنرمندی کی ضروریات سے بھی ہم آہنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے گوانگژو اور اسلام آباد میں قائم کیے جانے والے بزنس فسیلیٹیشن ڈیسک کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، مارکیٹ معلومات کی فراہمی اور کاروباری تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ اور چین میں موجود چاروں قونصل خانے پاکستانی کاروباری برادری کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ثابت قدم دوست اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں، انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھی ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ نجی شعبے کے روابط، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے ذریعے اس شراکت داری کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فارماسیوٹیکل، صحت، بائیوٹیکنالوجی، زراعت، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی، معدنیات، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر پاکستان اور چین کی کاروباری برادریوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی آئی نے گوانگژو میں بزنس فسیلیٹیشن ڈیسک اور اسلام آباد میں اس کے ہم آہنگ سہولت مرکز کے قیام کا آغاز کیا ہے، جو سرمایہ کاروں کو مارکیٹ معلومات، سرمایہ کاری رہنمائی، قابلِ اعتماد کاروباری شراکت داروں کی تلاش اور تجارتی مسائل کے حل میں معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی سی سی آئی، چین میں پاکستان کے سفارتی مشنز اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے کاروباری مواقع کو عملی سرمایہ کاری اور تجارتی منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مسلسل رابطے اور ادارہ جاتی تعاون سے پاک چین اقتصادی تعلقات کی حقیقی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
آخر میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
تقریب کے دوران سوال و جواب کی ایک مفصل نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں کاروباری برادری نے سفیر خلیل ہاشمی سے سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، مارکیٹ تک رسائی، تجارتی سہولت کاری، تنازعات کے حل اور چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدور محمد اعجاز عباسی، شیخ عامر وحید، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، راجہ نوید سٹی، ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس، اسحاق سیال، سابق سینئر نائب صدر نوید ملک، سینئر ممبران اسرار مشوانی، ساجد اقبال سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔