امریکا کو بڑا دھچکا ، خام تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔

عالمی توانائی کی منڈی میں اس تیزی نے آئندہ مہنگائی سے متعلق خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد اضافے کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادھر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے سربراہ فتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات عالمی توانائی کے نظام اور سپلائی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں بھی رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں،

جس سے عالمی تجارتی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل مختلف ممالک کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح باب المندب بھی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان بحری گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برقرار رہی تو عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار خطے میں ہونے والی ہر نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں یا مزید بڑھیں تو دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

پی این پی